62 اور 63 ہماری نالائقی ہے جو ہم نہیں نکال سکے، خواجہ سعد رفیق

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اس ملک میں صادق و امین کا تماشہ لگا تو معاملہ بہت دورتک جائے گا جب کہ اس طرح منتخب وزرائے اعظم کو نکالا گیا تو ملک کون چلائے گا۔

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اس ملک میں صادق و امین کا تماشہ لگا تو معاملہ بہت دورتک جائے گا جب کہ اس طرح منتخب وزرائے اعظم کو نکالا گیا تو ملک کون چلائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران خواجہ سعد رفیق نے عدلیہ کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلے عدالتی فیصلے میں معزز جج صاحبان نے رائے دی جس میں گاڈ فادر کا ذکر کیاگیا جو قابل افسوس ہے، ایک جج صاحب نے مافیا کہا جس پر ہماری توہین ہوئی جب کہ جو کاغذات ہم نے دیے جے آئی ٹی نے رپورٹ میں نہیں لگائے بلکہ باہر سے دستاویزات لاکر لگائے گئے، ہم چاہتے تو جے آئی ٹی کا بائیکاٹ کرسکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے دھاندلی کا ماتم کیا جب کہ کروڑوں ووٹ لینے والے وزیراعظم کو کیوں نا اہل کیا گیا، اس طرح منتخب وزرائے اعظم کو نکالا گیا تو ملک کون چلائے گا، کتنی بار وزرائے اعظم کے ساتھ یہ کیا جائے گا، کبھی پھانسی دے دو، کبھی جلاوطن کرو، یہ اب نیا راستہ کھل گیا ہے، کیا پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ صادق اور امین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 62 اور 63 ہماری نالائقی ہے جو ہم نہیں نکال سکے، معلوم نہیں تھا کہ یہ 58(2بی) بن جائے گی، یہ صرف سیاستدانوں کے لیے ہی کیوں ہے، ان طاقت ور طبقات کے لیے کیوں نہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو پہلے بھی کہا تھا کہ مٹھائیاں نہ کھائیں کیونکہ ان سے یہ ہضم نہیں ہوگا، آپ کے سارے الزامات غلط ثابت ہوئے ہیں، متنازع فیصلے تاریخ میں متنازع رہیں گے، کب تک چند ووٹ لینے والوں کے فیصلے ملک کی قسمت سے کھیلتے رہیں گے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک شریف کو بھیجو گے تو دوسرا شریف آئے گا، دوسرے کو بھیجو گے تو تیسرا آئے گا، شہباز شریف اس وجہ سے نہیں آئے کہ وہ نواز شریف کے بھائی ہیں بلکہ انہوں نے گورننس کا ماڈل متعارف کیا ہے تاہم ہم تو شہباز شریف کو لے آئیں ہیں لیکن عمران خان کس کو لےکر آئیں گے ان کی پارٹی بانجھ ہے، انہوں نے لنڈے کا مال لاکر پارٹی بنائی تاہم ایک دن انہیں واپس ہمارے پاس ہی آنا پڑے گا ۔