حکومت کی ہر اچھے کام پر تعریف اور غلط کام کی گرفت کریں گے،سینیٹر سراج الحق

حکومت کی ہر اچھے کام پر تعریف اور غلط کام کی گرفت کریں گے،سینیٹر سراج الحق

لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ہم عمران خان کے وعدوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں ۔ حکومت کو اپنے پہلے 100 دنوں کے پروگرام پر عملدرآمد کا پورا موقع دیا جائے گا ۔ شدید تحفظات کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ نئی حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے ۔ اداروں کی غیر قانونی مداخلت نے رائے عامہ کو متاثر کیاجس نے جیتنے والوں کو بھی شرمسار کردیاہے اور الیکشن کمیشن اور ریاستی ادارے خود بھی کٹہرے میں کھڑے ہیں ۔


 ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنی صدارت میں ہونے والے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کے طویل اجلاس کے بعد منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، نائب امراءاسد اللہ بھٹو ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر ، اظہر اقبال حسن اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم پورے وقار کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور حکومت کی ہر اچھے کام پر تعریف اور غلط کام کی گرفت کریں گے ۔ ہم عمران خان کی طرف سے پاکستا ن کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے ، سود کے خاتمہ ، اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد ، مہنگائی کے خاتمہ ، ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے ،معیشت کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے چنگل سے آزاد کرانے اور پچاس لاکھ بے گھروں کو چھت مہیا کرنے کے وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک بھارت سے تجارت کا پاکستان کو نقصان ہوگا ۔ کشمیری قیادت کے بغیر بھارت سے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف الزامات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے ۔ تمام جماعتوں کو اپنے تحفظات پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور ان تحفظات کو دور کیا جائے۔ جماعت اسلامی نے 11 ،12 اگست کو مرکزی مجلس شورٰی کا اجلاس طلب کیاہے ،اس سے قبل چاروں صوبوں کی شوراﺅں کے اجلاس ہوں گے۔

سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی, ہم ملک سے نظریاتی ، اخلاقی اور معاشی کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ ہمارا احتساب کے اداروں سے پہلے بھی مطالبہ رہاہے اور اب بھی مطالبہ ہے کہ لٹیروں کا بے لاگ احتساب کیا جائے ۔ لوٹی گئی قومی دولت کے بیرونی بنکوں میں پڑے پانچ سو ارب ڈالر واپس لائے جائیں اور ملک پر موجود 83 ارب ڈالر کا قرضہ ادا کرنے کے بعد باقی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے ا ور اس سے عوام کو ریلیف دیا جائے ۔

انہوں نے کہاکہ لوٹی گئی رقم کی واپسی اصل کام ہے جس کی طرف آنے والی حکومت کوتوجہ دینا ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ قوم نے متحدہ مجلس عمل سمیت دینی جماعتوں کو 55 لاکھ ووٹ دیے ۔ ہم جمہوریت اور ووٹ کو ملک میں اسلامی انقلاب کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ دینی جماعتوں نے ہمیشہ جمہوریت کے استحکام کے لیے جدوجہد کی ہے ہم کمزور جمہوریت کو بھی آمریت سے بہتر سمجھتے ہیں ۔ ملک میں انتخابات کا بروقت انعقاد اطمینان بخش ہے ۔

انہوں نے کہاکہ تمام تر ریاستی قوت اور وسائل کا استعمال کرکے من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی کئی کئی گھنٹے تک انتخابی نتائج روک کر تبدیل کیے گئے ۔ دیر سے چترال تک پولنگ ایجنٹوں کو فارم 45 نہیں دیے گئے ۔ لوگ کبھی ایک اور کبھی دوسرے پولنگ اسٹیشن پر دھکے کھاتے رہے ۔ہم نے ریاستی رکاوٹوں کے باوجود مقابلہ کیا اور عوام نے متحدہ مجلس عمل کو 25 لاکھ سے زیادہ ووٹ دیے ۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں عوامی رائے کا احترام ہے ۔ ہم مخالفت برائے مخالفت پر یقین نہیں رکھتے اس لیے ہم مجلس عاملہ کے فیصلوں کے متعلق ایم ایم اے کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے اور اپوزیشن کا بھر پور کردار ادا کریں گے ۔