بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی

Riaz ch, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

 امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے بھارت کے اپنے پہلے دورے میں مودی سرکار کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت جمہوریت کو کمزور کرنے سے باز رہے۔ بلنکن نے سول سوسائٹی کے رہنماؤں پر زور دیا کہ مودی حکومت پر انسانی حقوق کی پاسداری کیلئے دباؤ ڈالیں کیونکہ جمہوریت‘ بین الاقوامی آزادیوں کو درپیش عالمی خطرات کے دور میں ہمیں جمہوری تنزلی کا سامنا ہے۔

 خودکو سیکولر ملک کہنے والے ہندوستان کی کشمیر میں جاری کارستانیوں جہاں ہندو فوج نے کشمیریوں کے حق خودار ادیت اور آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے نہتے کشمیریوں کا جو عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور آزادی کی آواز کو گولی سے دبانے کی روش پر مدتوں سے چل رہا ہے۔

 آج ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جا رہا ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھی نام نہاد جمہوری ملک ہونے کا دعویدار ہندوستان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اقلیتوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہر جرم کا الزام مسلمانوں پر تھوپنے اور پھر انہیں اذیتیں دینے سے کون واقف نہیں۔مسلمانوں کے علاوہ سکھ برادری جو کہ مدتوں سے اپنے خلاف جاری کارروائیوں پہ سراپا احتجاج ہے اورظلم و نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کئے خالصتان تحریک چلا رہے ہیں۔ بظاہر ان کی منزل بھی قریب نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھی ہندوؤں کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویوں نے دنیا کے سامنے ہمیشہ اسکا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ لیکن مجال ہے اس پر کسی عالمی ادارے نے کوئی آواز بلند کی ہو۔ بلکہ ہمیشہ گونگے اور بہرے بنے رہے۔

بھارت میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے بھارتی معاشرے میں نفرت اور مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی اونچی ذات کے ہندوؤں کی جانب سے نچلی ذات کے ہندوؤں، مسیحوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور بدسلوکی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہیں جو تقسیم ہند سے قبل ہندوستان میں سیکڑوں برس حکمران بھی رہے۔

تاہم تقسیم ہند کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کو تعصب کا سامنا رہا اور بھارت کے بانی رہنماؤں میں سب سے معروف موہن داس کرم چند گاندھی کو ہی 1948 میں ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ایک ہندو انتہا پسند نتھورام گوڈسے نے قتل کردیا تھا۔ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ہندو انتہا پسندوں کی اکثریت مہاتما گاندھی کو ”غدار“ قرار دیتی ہے حالانکہ وہ خود ایک کٹر ہندو تھے، اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گاندھی کے قاتل گوڈسے کو ہیرو قراردیا جارہا ہے۔

 بھارت میں بیس کروڑ مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ 2020ء  کے دوران کمسن بچیوں اوراقلیتوں سے انسانیت سوز مظالم میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال جون میں 8 سالہ مسلمان لڑکی کو ہندوتوا گینگ نے پالیسی کے تحت اغوا کیا۔ 8 سالہ بچی کو جموں کے ہندو مندر میں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ یہ انسانیت سوز واقعہ بھارت میں اقلیتوں کیخلاف جرائم کی نئی لہر بن کر ابھر رہا ہے۔ یوورایشیاتنظیم نے مودی سرکار اور بی جے پی کے عسکری ونگ آر ایس ایس پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری اور تنظیموں سے آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں بھارت کے حقوق انسانی کی جائزہ رپورٹ منظور کرلی گئی۔ اس سے پہلے مئی میں رکن ممالک نے بھارت میں انسانی حقوق کے نظام کو مستحکم اور بہتر کرنے کے لیے 250 مخصوص سفارشات پیش کی تھیں۔ بھارت نے ان میں سے 152 سفارشات قبول کر لیں لیکن 98 سفارشات کے بارے میں صرف یہ کہا کہ حکومت نے ان سفارشات کونوٹ کر لیا ہے۔

 بھارت عالمی مبصرین کو بھی وادی میں داخلے سے روکے ہوئے ہے۔ اس پر امریکا اور مغرب کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ امریکی اور مغربی ممالک میں جہاں جانوروں کا بھی خیال کیا جاتا ہے اور ان کے بھی حقوق ہیں، وہی ممالک مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام پر مظالم کو دیکھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام کا واحد مطالبہ بھارتی جبر و استبداد سے آزادی ہے اور ان کا یہ حق ہے کہ بزور طاقت نہیں چھینا جاسکتا۔ انسانی حقوق کا عالمی دن منانا جدید ممالک کے لیے ایک رسم بن چکا ہے اور اس کا حقیقت اور عملی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ جبھی تو مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم و ستم کا شکار ہیں اور کوئی ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔ 

دنیا میں امن کے ٹھیکیدار ممالک کو چاہیے تھا کہ وہ دنیا میں جہاں جہاں ظلم کی داستانیں رقم ہورہی ہیں اور جہاں جہاں انسانی حقوق غصب کیے جارہے ہیں، وہاں حقوق دلانے کے لیے کسی پلیٹ فارم پر نہ سہی، انفرادی طور پر ہی آواز اٹھاتے تاکہ یہ ثابت ہوتا کہ مہذب ممالک واقعتا انسانی حقوق کی پامالی کو ایک جرم گردانتے ہیں اور اس کے خلاف ایکشن لینے کو تیار ہیں۔ تاہم بھارت نے ثابت کردیا کہ اس کا سیکولرازم سے دور کا واسطہ نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی روکی جائے۔