آئین ، قانون اور انصاف کا بول بالا…؟

آئین ، قانون اور انصاف کا بول بالا…؟

منگل 26جولائی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رُکنی بنچ نے طویل انتظار کے بعد رات تقریباً ساڑھے 9بجے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کی رولنگ جس میں مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے 10ارکانِ صوبائی اسمبلی کے ووٹوں کو مسترد کر دیا گیا تھا کے خلاف چوہدری پرویز الٰہی کی دائر کردہ درخواست پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر قانونی، حمزہ شہباز کے بطورِ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے حلف اٹھانے کو غیر آئینی اور چوہدری پرویز الٰہی کے بطورِ  وزیر اعلیٰ پنجاب انتخاب کو آئینی قرار دینے کا جو فیصلہ سنایا تو اس کے بارے میں کوئی ایسی حیرانی اور تعجب کی بات نہیں تھی کہ تقریباً ہر کسی کو سپریم کورٹ کے اس بنچ سے اسی طرح کے فیصلے کی توقع تھی۔ کیس کی سماعت کے دوران عزت مآب ججز کے جس طرح کے ریمارکس سامنے آتے رہے اور بحیثیت مجموعی عدالت کا جو ماحول رہا اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجود ہ صدر اور سابقہ چار صدور کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ بنانے کی استدعا اور اس کے ساتھ فریق ثانی یعنی ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اور حمزہ شہباز شریف کی فُل کورٹ بنانے کی اسی طرح کی استدعا کو تین رُکنی بنچ نے مسترد کر دیا تھا تو ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر یہ سمجھنا کچھ ایسا مشکل نہیں تھا کہ تین رکنی بنچ کے معزز اور محترم ارکان کا موڈ کیا ہے اور ان کی طرف سے کس طرح کا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ 

ویسے دیکھا جائے تو چوہدری پرویز الٰہی کی لاہور رجسٹری میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ مسترد کرنے کے بارے میں درخواست دائر کرنے کے ساتھ ہی اس طرح کا فیصلہ ہونے کا گمان سامنے آ گیا تھا۔ اس کی وجہ بیان کرنے کی شائد ضرورت نہیں ہے کہ چیف جسٹس جناب عمر عطا بندیال ہوں ، جسٹس اعجاز الاحسن ہوں یا جسٹس منیب اختر ہوں ان کے بارے میں غلط یا صحیح عمومی تاثر یہی کہ وہ اپنے فیصلوں میں ایک مخصوص سیاسی جماعت یا سیاسی راہنما کے حق میں دیئے گئے دلائل کو زیادہ پذیرائی بخشتے ہیں اور اس کے سیاسی مخالفین کے موقف کے حق میں دیے گئے دلائل کو کم اہمیت دیتے ہیں۔ اس ضمن میں عزت مآب چیف جسٹس کے آئین کی دفعہ 63Aکی تشریح کے لئے صدر کی طرف سے دائر کر دہ ریفرنس یا کیس کی سماعت کے دوران دیئے جانے والے بعض ایک دوسرے کے متضاد ریمارکس کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ، تو جسٹس اعجاز الاحسن کے ایسے واضح اور دو ٹوک ریمارکس بھی سامنے لائے جاسکتے ہیں کہ جن میں اُن کا مسلم لیگ ن اور اس کے قائد میاں محمد نواز شریف سے کچھ نا کچھ نا پسندیدگی کا اظہار سامنے آتا ہے۔ چیف جسٹس جناب عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کے بارے میں قانونی، عوامی اورمیڈیا کے حلقوں میں پائے جانے والے ان خیالات یا خدشات کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ جمعہ کی رات کو لاہور سپریم کورٹ کی رجسٹری میں چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست کی فوری سماعت کے لیے بنچ کی تشکیل کی گئی تو عزت مآب چیف جسٹس صاحب  نے جسٹس اعجاز الاحسن کے ساتھ جسٹس منیب اختر کو جو لاہور کے بجائے اسلام آباد میں موجود تھے اپنے ساتھ بیچ میں شامل ہی نہ کیا بلکہ ان کے لاہور پہنچنے یا پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات بھی کئے گئے۔ جبکہ سپریم کورٹ 

کے ایک دوسرے فاضل جج جناب جسٹس منصور علی شاہ لاہور میں ہی موجود تھے لیکن انھیں بنچ میں شامل کرنے سے بطور خاص احتراز کیا گیا۔ 

سچی بات ہے، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ جسے عدالتِ عظمیٰ بھی کہا جاتا ہے کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) اور ان کے برادر ججز کے بارے میں مختلف حلقوں میں پائے جانے والے اس طرح کے منفی تاثرات اور خیالات کا اظہار مجھے قطعاً اچھا نہیں لگ رہا۔ مجھے اس بات کا بھی ڈر ہے کہ میں اس طرح کے خیالات کو سامنے لا کر کہیں توہین عدالت کا مرتکب تو نہیں ہو رہا ہوں۔ اس کے ساتھ مجھے شدت سے یہ بھی احساس ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کوئی معمولی مقام، مرتبے ، حیثیت اور احترام کے مالک نہیں ہوتے۔ وہ عدل و انصاف کے نگہبان، آئین و قانون کے محافظ اور غیر جانبدارانہ اور منصفانہ فیصلوں کے نقیب سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے فیصلوں سے صرف کاغذوں اور فائلوں میں انصاف نہیں ہوتا بلکہ سامنے ہوتا نظر آتا ہے۔ وہ اپنے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ فیصلوں سے ایسی نظیریں قائم کرتے ہیں جو بعد میں آنے والے عزت مآب منصفین کے عدالتی فیصلوں کی بنیادیں بنتی ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ ایک محترم اور عزت مآب جج نے ایک وقت میں ایک رائے دی ہو اور دوسرے وقت میں کوئی دوسری اور اس سے متضاد رائے سامنے لے کر آئے ہوں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ میں جانبدارانہ اورآئین و قانون کے منافی فیصلوں کی مثالیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ہم اسی مثال کو لے لیتے ہیں کہ اس سال مارچ کے پہلے ہفتے میں جناب عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی توآئین کی دفعہ 63Aکی تشریح کا معاملہ جہاں سامنے آیا تو اس کے ساتھ تحریک انصاف کے منحرف ارکانِ قومی اسمبلی کا  عمران خان کے خلاف ووٹ دینے اور بغاوت کرنے کامعاملہ بھی جڑا ہوا تھا ۔ اس موقع پر چیف جسٹس جناب عمر عطا بندیال نے واضح لفظوں میں یہ ارشاد فرمایا کہ منحرف ارکانِ پارلیمنٹ نہ صرف ووٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں بلکہ اُن کے ووٹوں کو گنتی میں شمار ہونے سے بھی روکا نہیں جا سکتا۔ ان واضح ریمارکس کے بعد اس بات کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ جناب چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بنچ کی طرف سے آئین کی دفعہ 63Aکی وضاحت اور تشریح کے تحت دیئے جانے والے اکثریتی فیصلے میں یہ قرار دیا گیا کہ منحرف ارکانِ اسمبلی کے ووٹ جہاں گنتی میں شمار نہیں کیے جا سکتے وہاں پارٹی سربراہ کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس کی صورت میں ان منحرف ارکان کو پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے کی پاداش میں اپنی نشستوں سے بھی محروم یا De-Seat  ہونا پڑے گا۔اتفاق کی بات ہے کہ صدارتی ریفرنس کی تشریح میں دیا جانے والا فیصلہ اس وقت دیا گیا جب پنجاب اسمبلی میں وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہو چکی تھی اور تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکانِ اسمبلی نے حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ ڈال کر انھیں بطورِ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کامیاب کرا دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اس خط پر فوری کارروائی کی اور پنجاب اسمبلی کے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 25ارکانِ اسمبلی کو نہ صرف نا اہل قرار دیا بلکہ ان کے خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول بھی جاری کر دیا۔ 

پنجاب صوبائی اسمبلی کی پانچ مخصوص اور 20عام نشستوں پر ضمنی انتخابات کا مرحلہ کیسے مکمل ہوا؟ کس طرح کی انتخابی مہم چلائی گئی؟ تحریک انصاف کے قائد جناب عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ مستقل ریاستی اداروں بالخصوص عسکری اداروں کو تند و تیز تنقید اورطعن و تشنیع کا کس طرح نشانہ بنایا، ان سب کی تفصیل میں نہیں جاتے  کہ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ تاہم 22جولائی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے دوبارہ الیکشن کے لیے چوہدری پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز شریف ایک بار پھر مدِ مقابل تھے۔ حمزہ شہباز نے 179ووٹ لیے جبکہ پرویز الٰہی کے حصے میں 186ووٹ آئے ۔ ان 186ووٹوں میں مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے  10 ارکانِ اسمبلی کے ووٹ بھی شامل تھے جنہوں نے اپنے پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران خان کے  وزارتِ اعلیٰ پنجاب کے لیے نامزداُمیدوار چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں ووٹ ڈالے۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار دوست مزاری جو وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر پریزائڈنگ آفیسر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے نے آئین کی دفعہ 63Aکی تشریح میں دئیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مسلم لیگ ق کے ان 10منحرف ارکان اسمبلی کے ووٹ گنتی میں شمار کرنے کی بجائے انھیں مسترد کر نے کی رولنگ دی ۔ اس طرح حمزہ شہباز چوہدری پرویز الٰہی کے 176ووٹوں کے مقابلے میں 179ووٹ لے کر بطورِ وزیرِ اعلیٰ پنجاب منتخب قرار دیئے گئے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد کی رولنگ کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس کا فیصلہ ان کے حق میں آیا اور انھیں سپریم کورٹ کی طرف سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا کامیاب اُمیدوار قرار دے دیا گیا اور وہ بقول حزب مخالف پنجاب کے "عدالتی وزیرِ اعلیٰ" کے لقب کے حقدار ٹھہرے۔ 

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے اس فیصلے کو جس کے تحت مسلم لیگ ق کے دس ارکانِ اسمبلی کے ووٹوں کو چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں شمار کرکے انھیں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا حلف دلایا گیا ہے ، بلا شبہ آئین اور قانون کی بالادستی کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے لیکن کیا اس سے انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوئے ہیں؟ اس بارے میں بہت سارے قانونی حلقے سوال اُٹھارہے ہیں۔ اس فیصلے کو تاریخی بھی قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس میں سپریم کورٹ کے 2015 کے جسٹس عظمت سید شیخ کے ایک تحریر کردہ فیصلے میں پارٹی سربراہ سے متعلق پاسنگ ریمارکس کو رد کیا گیا ہے کہ یہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی طرح اس فیصلے کے تحت جناب چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم 5رکنی لارجر بنچ کے فیصلے کی بھی نفی کی گئی ہے جس کے تحت حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ ڈالنے والے 25ارکان صوبائی اسمبلی کو جن کا تعلق تحریک انصاف سے تھااس بنا پر نا اہل قرار دیا گیا کہ انھوں نے پارٹی سربراہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی یادگار قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کے تحت تفریق برتتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین کے بطور پارٹی سربراہ اپنے ارکان کو لکھے گئے خط کو جائز کے بجائے ناجائز قرار دیا گیا ہے جبکہ چند ماہ قبل جناب عمران خان کے اپنی پارٹی کی ہدایات سے انحراف کرنے والے منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے نام اسی طرح کی ہدایات کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ کئی اور پہلوؤں سے بھی یادگار سمجھا جا سکتا ہے لیکن یہاں اُن کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ 

مصنف کے بارے میں