جرمن پارلیمنٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کوقانونی حیثیت دیدی

جرمن پارلیمنٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کوقانونی حیثیت دیدی

برلن:جرمن پارلیمنٹ نے جمعہ کوہم جنس پرستوں کی شادی کوقانونی حیثیت دیدی ہے ۔ بل کے حق میں 393 ووٹ ڈالے گئے۔ رائے شماری کے بعد جرمن چانسلر میرکل نے کہا کہ انہوں نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔ اس پارلیمانی بِل کی راہ میں حائل آخری انتظامی دستوری رکاوٹ کو گزشتہ رات ختم کر دیا گیا تھا۔


یہ بل جمعے کی پارلیمانی کارروائی میں پہلے شامل نہیں تھا لیکن جمعرات کی رات میں پارلیمنٹ کے کئی اراکان کی حمایت حاصل ہونے پر اِسے پارلیمانی کارروائی میں شامل کیا گیا۔ ہم جنس پرستوں کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت دینے کا معاملہ کئی برسوں سے جرمن سیاست کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔

یہ فیصلہ چانسلرانجیلامرکل کے اس بیان کے چندروزبعدکیاگیاہے کہ وہ قدامت پسنداراکین پارلیمنٹ کواجازت دیں گی کہ وہ ووٹنگ کے عمل میں اپنے ضمیرکے مطابق فیصلہ کریں۔بل میں جسے بائیں بازونظریات کی حامل جماعتوں کی زبردست حمایت ملی ،یہ کہاگیاہے کہ جرمنی کاقانونی کوڈ اس طرح تبدیل کیاگیاکہ دومختلف یاایک ہی جنس کے دوافراداکٹھے زندگی گزارنے کیلئے شادی کرسکتے ہیں ۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن قانون اب کچھ یوں پڑھا جائے گا: 'شادی دو افراد کے درمیان زندگی بھر کا ساتھ ہے، چاہے وہ مختلف جنس سے ہوں یا ایک ہی جنس سے۔'جمعے کو ووٹنگ سے قبل میرکل نے کہا کہ ان کے نزدیک شادی ایک مرد اور ایک درمیان ہوتی ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ اس مسودہ قانون کی منظوری سے 'زیادہ سماجی ہم آہنگی اور امن آئے گا۔

'2013 میں اپنی انتخابی مہم چلاتے وقت میرکل نے ہم جنس پرست شادی کے خلاف بیانات دیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ 'بچوں کی بہبود' ہے۔ انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ ان کے لیے یہ مسئلہ خاصا مشکل رہا ہے۔

تاہم 26 جون کو خواتین کے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ انھوں نے دوسری جماعتوں کی طرف سے ہم جنس پرست شادیوں کی حمایت کا جائزہ لیا ہے اور وہ مستقبل میں اس پر ووٹنگ کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

جرمنی میں ستمبر میں انتخابات ہو رہے ہیں اور میرکل نہیں چاہتیں کہ لوگ انھیں پرانے خیالات کی مالکہ سمجھیں۔ اس کے علاوہ ان کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر اصلاحات نہ ہوئیں تو وہ آئندہ ان سے اتحاد نہیں کریں گے۔اب جرمنی میں صرف ایک جماعت اے ایف ڈی ہی باقی رہ گئی ہے جو ہم جنس پرست شادی کی مخالفت کر رہی ہے۔

یورپ کے کئی ملکوں نے پہلے ہی سے ہم جنس پرست شادیوں کی منظوری دے رکھی ہے۔ ان میں ناروے، سویڈن، ڈینمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، برطانیہ، فرانس، سپین، پرتگال، بیلجیئم، لکسمبرگ اور جمہوریہ آئرلینڈ شامل ہیں۔تاہم آسٹریا اور اٹلی میں ہم جنس پرست جوڑوں کو صرف سول پارٹنرشپ کا حق حاصل ہے۔