ڈپریشن کا شکار لوگ زیادہ حقیقت پسند ہوتے ہیں

ڈپریشن کا شکار لوگ زیادہ حقیقت پسند ہوتے ہیں

لاہور: دنیا بھر میں ذہنی تنائو کا شکار افراد کی تعداد کل آبادی کا 7سے 20فیصد تک ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں، باقی لوگ جنت میں رہتے ہیں۔


نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ مینجمنٹ کی نئی تحقیق کے مطابق ڈپریسڈ افراد بے وقوف نہیں ہوتے۔ یہ عام لوگوں سے زیادہ حقیقت پسند ہوتے ہیں دنیا کی حقیقت کو پہچان کر وہ ڈپریسڈ ہو جاتے ہیں۔ ان میں شعور کی کمی نہیں ہوتی تاہم قوت ارادی عام لوگوں سے کم ہوتی ہے۔ یہ لوگ خوابوں کی دنیا میں نہیں رہتے بلکہ دنیا جیسی ہے اسے ویسی ہی سمجھتے ہیں اور یہ رویہ انہیں ڈپریس کر دیتا ہے۔

نفسیاتی ماہرین نے اس رویے کو "ڈپریسل ڈس آرڈر"  قرار  دیا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں خواب ٹوٹ جاتے ہیں، ماہرین نفسیات نے ایسے افراد کو بہت منطقی سوچ رکھنے والا قرار دیا ہے۔ اس کاایک تجربہ 1979 میں "ایل پی ایلائے" اور"ایل وائے ابرام سن" نے کیا۔

انہوں نے ڈپریسڈ اور غیر ڈپریسڈ افراد پر مشتمل دو گروپ بنائے اورانہیں سبزلائٹ اور ایک بٹن دبانے کا مشورہ دیا گیا۔ ڈپریسڈ گروپ نے لائٹ اور بٹن کو حقیقت پسندانہ انداز میں دبایا جبکہ دوسرے گروپ کے انداز سے پتہ چلا کہ انہیں اپنے اوپر کنٹرول نہیں انہوں نے بٹن غلط انداز میں دبائے۔