بطور سیاستدان جمشید دستی کی گرفتاری پر بہت تکلیف ہوئی ، خورشید شاہ

بطور سیاستدان جمشید دستی کی گرفتاری پر بہت تکلیف ہوئی ، خورشید شاہ

سکھر: خورشید شاہ نے سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیاستدان جمشید دستی کی گرفتاری پر تکلیف ہوئی .حکومت کی مخالفت میں بولنا پارلیمنٹ کے ہر رکن کا حق ہے۔


انہوں نے کہا کہ جمشید دستی طاقتور نہیں اس لیے اس کیساتھ ایسا ہورہا ہے. ہمیں نہیں پتا تھا یہ حکومت اس طرح کی ڈکٹیٹر ہوگی.جمہوری قوتیں جمشید دستی پرتشدد کے خلاف احتجاج کریں.انہوں نے جمشید دستی کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ جمشید دستی کو شاباش، تشدد کے باوجود نواز شریف سے معافی نہیں مانگی .اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اقتدار میں تو ہر کوئی شیر ہوتا ہے، اقتدار کے بعد پتا چلتا ہے  .وزیراعظم کو للکارتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کہاں طاقت دکھاتے ہو،وزیراعظم کی کرسی سے اترو،آو میدان میں.اداروں کو دھمکیاں دیتے ہو، کب تک دھمکیوں پر چلو گے .

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ جمشید دستی پرتشدد کی پارلیمنٹ سے معافی مانگیں.وزیراعظم اور ان کی ٹیم بوکھلاہٹ کا شکار ہے.جب ٹرمپ نے بھارت کو معصوم کہا تو میاں صاحب آپ کو بولنا چاہیے تھا وہاں خاموش بیٹھے رہے،یہاں ایک ایم این اے پر طاقت دکھارہے ہیں .انہوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں جو بھی چھپا ہے وہ غداری کے زمرے میں آتا ہے .جن لوگوں نے اس میں کردار ادا کیا کٹہرے میں کھڑا کیا جائے.

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں