13سالہ شہید کی شناخت یاسر امجد ابو النجا کے نام سے کی گئی   جو کہ القسام کمانڈر امجد ابو النجا کا بیٹا ہے

  13سالہ شہید کی شناخت یاسر امجد ابو النجا کے نام سے کی گئی   جو کہ القسام کمانڈر امجد ابو النجا کا بیٹا ہے

اسرائیلی فوج کی طرف سے زخمیوں کو ہسپتالوں میں لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا،فوٹؤ بشکریہ سپوتنک

  غزہ :فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں  اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم سے کم 2 فلسطینی شہید اور 400سے زائدزخمی ہوگئے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی مشرقی سرحد پر    فلسطینی مظاہرین پراسرائیلی فوج نے فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 13 سالہ بچے سمیت دو فلسطینی شہید ہو گئے۔غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ مشرقی خان یونس میں اسرائیلی فوج فائرنگ سے ایک 13 سالہ لڑکا سرمیں گولی لگنے سے شہید ہوگیا۔

شہید کی شناخت یاسر امجد ابو النجا کے نام سے کی گئی   جو کہ القسام کمانڈر امجد ابو النجا کا بیٹا ہے۔ایک دوسرے بیان میں کہا گیا   کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں مشرقی رفح میں 24 سالہ محمد فوزی محمد الحمایدہ شہید ہوگیا۔ الحمایدہ کے سر، سینے اور ٹانگوں میں گولیاں ماری گئیں۔اشرف القدرہ نے بتایا کہ  اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کے نتیجے میں کم سے کم 415 فلسطینی زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔

زخمیوں میں چھ بچے، تین طبی عملے کے کارکن اور دیگر شہری شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے زخمیوں کو ہسپتالوں میں لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ 30 مارچ سے غزہ کی مشرقی سرحد پر جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 140 فلسطینی شہید اور پندرہ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔