پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، حکومت نے کچھ نہ کیا تو قانون راستہ بنائے گا، لاہورہائیکورٹ

پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، حکومت نے کچھ نہ کیا تو قانون راستہ بنائے گا، لاہورہائیکورٹ

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ریمارکس دیے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت میں قصوروار کو سزا ملے گی حکومت سے اس حوالے کچھ نہ کیا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا۔


چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت بارے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے کوئی دستاویزات مکمل ہو رہی ہیں۔چیف جسٹس قاسم خان نے تجویز دی کہ کیوں نہ اسپیکر قومی اسمبلی حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل کمیٹی قائم کر دیں، ایسا نہ ہوا تو پھر قانون اپنا راستہ بنائے گا۔لاہورہائیکورٹ نے چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل کو ایک لاکھ جرمانہ کرتے ہوئے رقم ہائیکورٹ کے اسپتال میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت نے مستقبل میں ایسے بحران کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے؟ اوگرا کیخلاف کیا اقدامات کیے؟ چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کیا کہ پیٹرول کی قلت ہو گئی تو فوج کی گاڑیوں کو ایندھن کیسے ملے گا؟ یہ بہت حساس معاملہ ہے، جس کا قصور ہوا، وہ بچے گا نہیں، اسے سزا ملے گی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت اسپیکر قومی اسمبلی سے مشاورت کر کے بتائے، کیوں نہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی جائے۔

کمیٹی بحران، سٹوریج اور قیمتیں بڑھانے پر رپورٹ تیار کرے، چیف جسٹس نے واضح کیا، اگر اسپیکر صاحب کمیٹی نہیں بناتے تو پھر قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا دوسرا حل یہ ہو سکتا ہے کہ سی پی سی کے تحت عدالت ایک کمیشن مقرر کر دے۔ لاہورہائیکورٹ نے پیٹرول بحران سے متعلق کیس کی سماعت9جولائی تک ملتوی کردی ہے۔