تیس ڈویژنوں کو صوبے بنانے کی تجویز

Syed Sardar Ahmad Pirzada, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں پاکستان کے چاروں صوبوں کی جگہ ملک کے تیس ڈویژنوں کو صوبے کا درجہ دینے کی تجویز کا آغاز کیا تھا اور ان کے چیدہ چیدہ چار فوائد تحریر کیے تھے۔ اُس مضمون کا باقی حصہ ذیل میں تحریر ہے۔ اس حصے میں رقبے کے اعتبار سے بڑے بڑے چار صوبوں کی جگہ تیس ڈویژنوں کو صوبے بنانے کے چیدہ چیدہ بقیہ آٹھ فوائد زیربحث لائے گئے ہیں۔ (5صوبائی ہائی کورٹس تک پہنچنے کے لیے عوام کو بہت دوردراز سے آنا پڑتا ہے جس سے غریب عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے نیز موجودہ صوبوں کا رقبہ بڑا ہونے اور آبادی کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے صوبائی ہائی کورٹس پر مقدمات کا بہت زیادہ بوجھ بھی ہے۔ ڈویژن کی سطح پر نئے صوبے قائم ہونے سے عوام کو اپنے گھر کے قریب ہی صوبائی ہائی کورٹ تک رسائل مل جائے گی کیونکہ ہر صوبے کا رقبہ چھوٹا ہو جائے گا۔ اس طرح موجودہ صوبائی ہائی کورٹس پر بڑے صوبے اور بڑی آبادی کے مقدمات کا بوجھ بھی ختم ہو جائے گا اور اپنے اپنے صوبوں کی ہائی کورٹس میں مقدمات تقسیم ہو جائیں گے جن سے انصاف کے حصول میں نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ میرٹ کو بھی مزید یقینی بنایا جاسکے گا۔ (6موجودہ چار صوبوں میں چار وزرائے اعلیٰ اور صوبائی افسران موجود ہیں۔ یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ نئے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے دفاتر، ان کے سٹاف اور اعلیٰ افسران کے اخراجات کا اضافی بوجھ بہت زیادہ ہوگا۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کے کمشنروں کی آسامیاں ختم کرکے اُن کے سٹاف کو نئے صوبائی وزرائے اعلیٰ کے سٹاف میں تبدیل کردیا جائے تو اخراجات میں زیادہ فرق نہیں ہوگا لیکن ملک کو ملنے والے فائدے بے حساب ہوں گے۔ (7ملک میں آبادی کی شفٹنگ کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان صوبائی دارالخلافوں اور بڑے شہروں کی طرف ہے۔ اس کی واضح وجہ صوبائی دارالخلافوں اور ترقی یافتہ شہروں میں جدید سہولتوں کا میسر ہونا ہے۔ اگر ڈویژن کی سطح پر نئے صوبے قائم کردیئے جائیں تو آبادی کا چند شہروں کی طرف شفٹنگ کا تیزی سے بڑھتا رجحان رک جائے گا اور پورے ملک میں یکساں ترقی کے مواقع ظاہر ہونے کے باعث آبادی اپنے اپنے صوبوں کے اندر ہی رہ کر روزگار، کاروبار، صحت، تعلیم اور انصاف وغیرہ کی 

بہتر سہولتیں حاصل کرسکے گی۔ (8ملک کی آبادی کی بڑی تعداد کے صوبائی دارالخلافوں اور چند ترقی یافتہ شہروں کی طرف شفٹ ہونے سے ہاؤسنگ، جرائم اور سِوک وغیرہ سمیت دیگر ملکی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے جوکہ تقریباً کنٹرول سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ ڈویژن کی سطح پر نئے صوبے بنانے سے پورے ملک کے چند شہروں پر ہاؤسنگ، جرائم اور سِوک وغیرہ کا بوجھ پڑنے کی بجائے پورے ملک میں تقریباً یکساں طور پر تقسیم ہو جائے گا اور کم وسائل کے ذریعے بھی ان مسائل پر قابو پایا جاسکے گا۔ (9پولیس اور لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ہوتی ہے۔ چونکہ یہ صوبائی حکومتیں بہت بڑے رقبے کے ساتھ اپنے صوبے میں ہرجگہ یکساں طریقے سے قانون نافذ نہیں کرپاتیں جس سے جرائم وغیرہ میں اضافہ ہوتا ہے نیز صوبائی دارالخلافوں اور متعلقہ صوبے کے چند بڑے شہروں میں گنجان آبادی کے باعث جرائم پر کنٹرول پانا مشکل ہوگیا ہے۔ ڈویژن کی سطح پر نئے صوبوں کے قیام کے ذریعے صوبائی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چھوٹے رقبے پر نگرانی کرنا ہوگی جس سے جرائم کو کنٹرول کرنے، قانون نافذ کرنے اور جرائم کی تفتیش وغیرہ کے مسائل میں بہت آسانی ہوگی۔ (10بجلی اور گیس کی ترسیل، ترسیلی نظام کا انتظام، ترسیلی نظام کی دیکھ بھال اور حفاظت اور بلوں کی وصولی مذکورہ چھوٹے صوبوں کے ذمے ہو جانے سے بہت بہتری ہوسکتی ہے۔ چونکہ ڈویژن کی سطح پر قائم ہونے والے صوبوں کا رقبہ کم ہوگا اس لیے وفاق کی طرف سے انہیں بجلی اور گیس کی جو مقدار ملے گی اسے بہتر اور مکمل استعمال میں لایا جاسکے گا۔ صوبے کے رقبے چھوٹے ہونے کے باعث بجلی اور گیس کے ترسیلی نظام، ترسیلی نظام کے انتظام اور ترسیلی نظام کی دیکھ بھال اور حفاظت بھرپور انداز سے ہوگی۔ صوبوں کا رقبہ کم ہونے کے باعث صارفین سے بجلی اور گیس کے بلوں کی وصولی بھی آسان اور مکمل ہوگی۔ اس طرح وفاق کی طرف سے صوبوں کے ذمے بجلی اور گیس کے بلوں کے بقایا جات بھی نہیں رہیں گے۔ یوں بجلی اور گیس کی چوری کا بڑا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ (11چونکہ یہ صوبے ڈویژن کی سطح پر ڈویژن کے نام سے ہی قائم ہوں گے اس لیے ان صوبوں کے ذریعے علاقائی یا لسانی تعصب کی گنجائش نہیں ہوگی۔ البتہ موجودہ صوبائی ناموں بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کو غیررسمی طور پر (اِن فارمل) ریجن کا نام دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا ریجن میں سات سات صوبے ہیں جبکہ پنجاب ریجن میں نو صوبے ہوں گے۔ (12موجودہ چاروں صوبوں میں وفاق کا نمائندہ گورنر بھی موجود ہے۔ نئے ڈویژن کی سطح پر قائم ہونے والے ہرصوبے میں گورنر کی تعیناتی کے بجائے صرف چار ریجنل گورنر ہی برقرار رکھے جائیں یعنی بلوچستان ریجن کا گورنر، پنجاب ریجن کا گورنر، خیبرپختونخوا ریجن کا گورنر اور سندھ ریجن کا گورنر۔ اس طرح متعلقہ صوبوں کے متعلقہ ریجنوں میں ایک ایک ہی گورنر ہوگا اور ڈویژن کی سطح پر نئے صوبوں کے قیام کے بعد بھی چار ہی گورنر رہیں گے۔ اس طرح گورنر آفس کے اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر سیاسی جماعتیں، سیاست دان یا حکام یا ادارے میری مذکورہ تجاویز پر مختلف اداروں سے سٹڈی کرائیں تو امید ہے کہ مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔