معاشی مسائل اور ’’اخراجات کے مطابق وسائل‘‘ کی پالیسی

معاشی مسائل اور ’’اخراجات کے مطابق وسائل‘‘ کی پالیسی

آئی ایم ایف نے میمورینڈم آف اکنامک، فنانشل پالیسی فریم ورک پاکستان کے حوالے کر دیا ہے جو ساتویں اور آٹھویں جائزے کے حوالے سے اہم دستاویز ہے۔ اس پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان کو طے کردہ معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف قرضے کی اگلی قسط جاری کر دے گا اور اس طرح پاکستانی معیشت پر ڈیفالٹ کی لٹکی ہوئی تلوار غائب ہو جائے گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد پاکستان کے مالی معاملات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے ناامیدی کے چھائے ہوئے گہرے بادل چھٹنے لگیں گے۔ امریکہ، برطانیہ، چین، سعودی عرب، متحدہ ارب امارات اور دیگر اداروں کے ساتھ رکے ہوئے معاملات چلنے لگیں گے ہم کیونکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے منسلک ہیں اس لئے آئی ایم ایف کیونکہ اس نظام میں کلیدی اہمیت کا حامل ادارہ ہے اس لئے اس ہاتھی کے پائوں میں ہی سب کا پائوں ہوتا ہے۔ مفاہمتی دستاویز پر دستخطوں کے بعد ہم پر ڈالر برسنا شروع ہو جائیں گے۔ قلیل مدتی اور طویل مدتی قرضوں کی شکل میں، پہلے سے حاصل کردہ قرضوں کی ری شیڈولنگ کے ذریعے اور کہیں سے امداد ملنے کی صورت میں ہمارے معاشی معاملات میں جاری سختی کسی حد تک کم ہو جائے گی لیکن آئی ایم ایف کا شکنجہ اور بھی سختی سے فٹ ہو جائے گا۔ ہمارے قومی قرضوں کا حجم اور بھی ناقابل برداشت ہو جائے گا۔ قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ معیشت کو اور بھی جھکا دے گا۔ ہم کبھی بھی اپنے اخراجات کے مطابق وسائل حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ’’اخراجات کے مطابق وسائل‘‘ کی پالیسی ہمیں نہ پہلے راس آئی ہے اور نہ اس پالیسی کی کامیابی کے اب امکانات ہیں ہم جب تک اپنے وسائل کے مطابق اپنا میزانیہ یعنی اخراجات تشکیل نہیں دیتے، کامیاب نہیں ہو سکتے۔

’’معاملات معاش قابو میں نہیں آ رہے ہیں، شہباز شریف کا جادو سر چڑھ کر بولتا کہیں بھی نظر نہیں آ رہا ہے، غریب اور نچلے طبقات کا فنا ہونا تو مقدر ہو ہی چکا ہے۔ درمیانہ اور تنخواہ دار طبقات بھی آخری سانسیں لے رہے ہیں‘‘۔ یہ تاثرات ہیں عوام کے، شہباز شریف کی قیادت میں چلنے والی اتحادی حکومتی کارکردگی کے بارے میں۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی، ق لیگ، پی ٹی آئی وغیرہ تقسیم و تفریق سے بالا ہو کر دیکھا جائے تو یہ تاثرات حقیقت سے خاصے قریب ہیں۔ حکمران معاملات کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ عمران خان حکومت کی نالائقی اور نااہلی اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے آنے والوں (شہباز شریف حکومت) کی راہوں میں کانٹے بوئے بقول شیخ رشید ٹائم بم فٹ کئے ہیں۔ یہ سب باتیں درست مان لینے 

کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اتحادی حکومت چلتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

آئی ایم ایف سے ہونے والے معاملات اور ان کے ہماری معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی بات کرنے سے پہلے بجلی اور اس سے وابستہ معاملات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ بجلی کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے یہ کس فارمولے کے تحت اور کس شرح سے کیا جا رہا ہے کسی کو پتہ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ ہمارے نئے نویلے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ہر روز دھمکی کے انداز میں ٹیکس لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ نہ کیا تو ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے۔ بھائی ٹیکس ضرور لگائیں لیکن کچھ تو ٹیکس ادا کرنے والوں کی سکت پر بھی نظر ڈال لیں کہ ان میں اب کچھ بھی اور ادا کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہی ہے۔ آپ نے بڑے کاروباری اور صنعتکاری حضرات پر، ان کی آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگا کر حاتم طائی کی کمر پر لات مار دی ہے لیکن آپ نے یہ نہیں سوچا کہ یہ سارا ٹیکس آخرکار صارف/ خریدار کو ہی منتقل ہو جائے گا۔ آٹو سیکٹر کی سن لیں مارکیٹ کے شو رومز نئی نویلی گاڑیوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن شو رومز مالکان خریداروں کو انکار کر کے واپس لوٹا رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ 10 فیصد سپرٹیکس کے اثرات (قیمتوں میں اضافے کی شکل میں) مرتب ہونے کے بعد ان گاڑیوں کو فروخت کیا جائے گا۔ گاڑیاں پہلے ہی ’’اون‘‘ یعنی اضافی قیمت پر بکتی ہیں اب ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ چلیں یہ تو گاڑیاں ہیں، ہم بجلی کی بات کر رہے تھے اس کی قیمت بڑھ رہی ہے اور بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ حکومت کے پاس اس بارے میں مناسب دلائل بھی ہیں لیکن بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ وولٹیج میں بے ترتیبی کے بارے میں کیا کہیں گے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پر کیا کسی اصول یا ضابطے کا اطلاق نہیں ہوتا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، ٹرانسپورٹر کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی باربرداری کی شرح میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے تھوک کا کاروبار کرنے والے، حتیٰ کہ ریڑھی فروش بھی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ کسی کو کوئی پوچھنے دیکھنے والا نہیں ہے کہ اضافہ کرنے کی شرح مبنی بر انصاف ہے بھی کہ نہیں۔ حکومت کی رِٹ کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔ ہماری حکومت ایک پالیسی پر بڑی مہارت اور یکسوئی کے ساتھ عمل پیرا ہے اور وہ ہے آئی ایم ایف کی خوشنودی۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہ کئے تو ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے۔ ہم دنیا سے کٹ جائیں گے تباہ و برباد ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب باتیں درست ہیں، ہم قرضے کی معیشت چلا رہے ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے اسیر بن چکے ہیں، ہماری خارجہ پالیسی امریکہ و مغربی سرمایہ دار دنیا کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ہماری سات دہائیوں سے زیادہ پر مشتمل قومی تاریخ نے بنا دیا ہے کہ ہم خسارے میں ہیں۔ امریکہ نے ہمیں ہمیشہ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور پھر چھوڑ دیا۔ سیٹو، سینٹو معاہدے بھی ہمارے کام نہ آ سکے۔ افغان جہاد میں اشتراکی افواج کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا ہونا بھی ہمارے کسی کام نہ آیا۔ 20 سال تک دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں کھڑا رہنا بھی ہمارے معاملات درست نہیں کر سکا۔ آج ہم شدید نہیں بلکہ جان لیوا مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس، ہمارے اخراجات پورے کرنے کے وسائل نہیں ہیں، ہم ایک ایک روپے اور ایک ایک ڈالر کے لئے ترلے لے رہے ہیں۔ کبھی آئی ایم ایف، کبھی چین، کبھی سعودی عرب ، کبھی امارات، غرض ہم نے کوئی ایسا دروازہ نہیں چھوڑا جس کو کھٹکھٹانے سے ہمیں امداد یا قرض ملنے کی رتی برابر بھی امید ہو۔ ہمیں اس طرح قرض حاصل کرنے کی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے۔ ہم گزرے 20 سال کے دوران امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار انسانوں کی جانی قربانی اور 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانے کے ساتھ معاشرتی و سیاسی بے ترتیبی کی زہریلی فصل بھی کاٹ چکے ہیں۔ امریکہ اب بھی ہم سے ناراض ہے وہ چاہتا ہے کہ ہم چین کے ساتھ محبت کی پینگیں نہ بڑھائیں۔ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ اپنے معاملات درست کریں۔ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کو بھول کر تجارتی تعلقات کو فروغ دیں۔ وہ یہ مطالبات اس لئے کرتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ ہماری معیشت ہمارے قابو میں نہیں ہے۔ ہم اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کرنے اور کرتے رہنے کے خوگر ہو چکے ہیں۔ ہم صرف اخراجات کا میزانیہ ترتیب دینے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اللوں تللوں پر خرچ کرنے اور کرتے ہی رہنے میں یدطولیٰ حاصل ہے لیکن وسائل کہاں سے آئیں گے، اس بارے میں ہمارا ملجیٰ و ماویٰ امریکہ اور اس سے جڑے مالیاتی و زری ادارے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے ہونا، ایک اہم پیش رفت ضرور ہے لیکن یہ ہمارے معاشی مسائل کا حل نہیں ہے۔ہمارے معاشی مسائل کا حل ’’اخراجات کے مطابق وسائل‘‘ کی پالیسی ترک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ جتنی جلدی ہم خودانحصاری کی راہ پر چلنا طے کریں گے اتنی جلدی ہی ہمارے مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔

مصنف کے بارے میں