یہ تو وہی جگہ ہے

یہ تو وہی جگہ ہے

 ہماری سیاسی تاریخ میں 2007سے شروع ہونے والا دور بڑا عجیب دور تھا ۔ اس سال کچھ ایسے انہونے واقعات ہوئے کہ جو اس ملک کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوئے تھے ۔ یہ سال جب شروع ہوا تو کچھ ناپسندیدہ فیصلوں کی وجہ سے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو جنرل مشرف کے حکم پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے بعد افتخار چوہدری بحال ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر جنرل مشرف کی ایمرجنسی کی نظر ہو کر سڑکوں پر انصاف مانگتے نظر آ رہے تھے ۔ اسی دوران لال مسجد کا واقعہ بھی ہوا جس کی وجہ سے جنرل مشرف مزید کمزور ہوئے ۔ اسی سال پاکستان کی مقبول ترین عوامی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کو 27دسمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی میں دہشت گردی کی ایک واردات میں شہید کر دیا گیا ۔2008میں الیکشن ہوئے جس کے نتیجہ میں پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں آئی اور پھر پاکستان میں وہ ہوا کہ جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ ایک آمر کو بغیر کسی خون خرابہ کے عہدہ صدارت سے مستعفی ہوکر گھر جانا پڑا اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس وقت تک ابھی 18ویں ترمیم نہیں ہوئی تھی اور صدر مشرف کے پاس 58ٹو بی ایسے اسمبلیاں توڑنے کے ساتھ مکمل اختیارات تھے لیکن انھیں کچھ اس طرح سے بے دست و پا کر دیا گیا تھا کہ انھیں گھر جانا پڑا ۔نئی حکومت اتحادیوں کی مدد کے ساتھ بنی تھی لیکن پھر سب سے پہلے نواز لیگ اس حکومت سے الگ ہوئی یہ حکومت کو ایک جھٹکا ضرور تھا لیکن حکومت کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا اور وہ چلتی رہی ۔ در حقیقت اس بار صیاد نے کچھ مختلف قسم کا جال پھینکا تھا ۔

58ٹو بی بھی نہیں تھی اور صدر بھی اسی جماعت کا چیئرمین تھا جس کی حکومت تھی لہٰذا ماضی کی طرح اس بار حکومت کی اخلاقی حیثیت کو تباہ کرنے کے لئے صرف پروپیگنڈا کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر ملک و قوم کو مشکلات و مسائل کی دلدل میں گلے گلے دھکیلا گیا ۔ مہنگائی اور بیروز گاری تو پاکستانی قوم کے صدا بہار مسائل ہیں لیکن اس دور میں لوڈ شیڈنگ کو بھی ایک ہتھیار بنا کر استعمال کیا گیا ۔رینٹل پاور منگوائے گئے لیکن اس کی راہ میں عدلیہ کے افتخار حائل ہو گئے اور ملک میں 12سے لے کر20گھنٹوں تک کی جان لیوا لوڈ شیڈنگ نے جہاں عوام کے ساتھ معیشت کی بھی مت مار کر رکھ دی تو اس کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی جو ملک بھر میں اپنی مقبولیت کی بنا پر وفاق کی جماعت تصور کی جاتی تھی اسے بھی ایک صوبہ سندھ تک محدود ہونا پڑا ۔لوڈ شیڈنگ در اصل جنرل مشرف کے اس دور کی ناقص حکمت عملیوں کا نتیجہ تھی کہ جس دور میں ایک میگا واٹ بجلی کا منصوبہ بھی ملک میں نہیں لگایا گیا ۔ اس کے بعد نواز لیگ کی حکومت آئی تو اس دور میں بجلی کے مختلف منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ قریب قریب ختم کر دی گئی تھی لیکن اس کے بعد تحریک انصاف کا دور آیا اور جنرل مشرف کے دور کی طرح اس دور میں بھی بجلی کا کوئی ایک پراجیکٹ ملک میں نہیں لگایا گیا اور آج اس نئی حکومت کو بر سر اقتدار آئے ڈھائی پونے تین ماہ ہو چکے ہیں اور جو حالات ہیں انھیں دیکھ کر میڈم نور جہاں کا ایک خوبصورت گیت یاد آ رہا ہے کہ 

لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے 

یہ تو وہی جگہ ہے گذرے تھے ہم جہاں سے

بلا وجہ کی لوڈ شیڈنگ کہ جس کے متعلق وزیر توانائی سے لے کر وزیر خزانہ اور وزیر اعظم تک کسی کو یہ بھی نہیں معلوم اور نہ وہ بتانے کی پوزیشن میں ہیں کہ یہ شروع کیسے ہوئی اور اس کا خاتمہ بالخیر کب ہو گا کبھی کہا جاتا ہے تین گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو گی اور15جون کے بعد ڈھائی گھنٹے کی اور یکم جولائی سے فقط دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ رہ جائے گی اور اب کسی اور کا نہیں بلکہ خود وزیر اعظم کا بیان آیا ہے کہ جولائی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ جائے گا ۔ اول تو یہ بیان دینے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ آپ جس منصب پر فائز ہیں آپ کا کام قوم کو امید دلانا ہے نہ کہ جو امید ہے اسے بھی ختم کر دیں ۔

ایک بات یادرکھیں اور یہ کوئی ہمارا ذاتی خیال نہیں ہے بلکہ زمینی حقائق ہیں کہ عوام نے بجلی ، پیٹرول اور ڈالر کے نرخ کو تو برداشت کر لیا اور اس کے لئے عمران خان کی کال کے باوجود بھی کہیں کوئی موثر احتجاج نہیں ہوا لیکن جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور لوگوں کا جینا محال ہو جاتا ہے تو پھر بغیر کسی سیاسی رہنما کی کال کے وہ از خود سڑکوں پر آ جاتے ہیں گذشتہ دو تین دن سے کراچی میں ماڑی پور روڈ اور دیگر مختلف مقامات پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی یہی حال ہے اور اس کی وجہ بھی ہے کہ اس شدید گرمی میں جب بجلی نہیں ہوتی تو معصوم بچے بلبلا اٹھتے ہیں اور دل ، شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کی حالت غیر ہو جاتی ہے ۔ اس لئے کسی بھی طرح کوئی بھی جتن کریں لیکن لوڈ شیڈنگ پر قابو پائیں ۔ عدلیہ کا موڈ بھی کچھ زیادہ بہتر نظر نہیں آرہا اور چار سال کے بعد ایک مرتبہ پھر از خود نوٹس اور حکومت کی پیشیاں شروع ہو چکی ہیں حالانکہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تھی تو اس وقت بھی خان صاحب پر ہیلی کاپٹر کیس تھا اور فارن فنڈنگ کیس بھی اور پرویز خٹک اور دیگر کئی وزراء پر بھی کیسز تھے لیکن ہر روز حکومت عدالتوں میں نظر نہیں آتی تھی اور اب تو ایسے لگ رہا ہے کہ پنجاب حکومت لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کی مار ہے کیونکہ کہتے ہیں کہ دو ماہ بعد پتا چلا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب درست نہیں تھا ۔ آج فیصلہ ہے دیکھتے ہیں کہ اس فیصلے سے پنجاب حکومت تخت پر بیٹھتی ہے یا اس کا دھڑن تختہ ہوتا ہے اور ملک میں سیاسی بے یقینی کی فضا پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن ٹی وی سکرینوں پر وزیروں اور مشیروں کے چہرے اترے ہوئے ہیں لہجوں میں دم نہیں باتیں کھوکھلی اور دلائل میں وزن نہیں ۔ یہ بالکل وہی باڈی لینگویج ہے جو 2008سے2013تک کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگوں کی ہوتی تھی ۔ آج بھی وہی دھیما لب و لہجہ وہی بے ربط باتیں موجودہ حکومت کے لوگوں سے سننے کو مل رہی ہیں ۔ دنیا کہہ رہی ہے اور ہم نے بھی اپنے گذشتہ سے پیوستہ کالم میں عرض کی تھی کہ بار بار تحریک انصاف کے آئی ایم ایف سے معاہدے کاذکر ہوتا ہے تو خدارا اسے عوام کے سامنے پیش کیوں نہیں کر دیتے آخر کون سی مجبوریاں ہیں جنھوں نے آپ کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ۔یاد رکھیں کہ لوڈ شیڈنگ پاکستان پیپلز پارٹی کا سوا ستیاناس کر گئی تھی اور حالات اگر ایسے ہی رہے تو میاں شہباز شریف بھی میڈم نور جہاں کا ایک اور دلکش گیت گنگناتے نظر آئیں گے کہ 

جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں 

آخری گیت سنانے کے لئے آئے ہیں 

مصنف کے بارے میں