فوج کا سیاسی کردار اور تحریک انصاف

فوج کا سیاسی کردار اور تحریک انصاف

حساس ایجنسی کے ایک سابق سربراہ جنرل ظہیر الاسلام کی تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں تقریر سامنے آئی ہے جس میں وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ انٹیلیکلچولی طور پر نیوٹرل ہیں تاہم ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے دو پارٹی سسٹم کو توڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے تحریک انصاف کو چنا کیونکہ اس میں وہ تمام خصوصیات تھیں جو اس کام کے لیے درکار تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف وہ خود کو فکری اعتبار سے نیوٹرل کہتے ہیں اور دوسری طرف یہ اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو جس سان پر چڑھا کر تیز کیا گیا وہ ان کی تھی۔ اس تقریر کے بعد عمران خان کے وقار اور اعتبار کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی۔ خودداری اور غیرت کی میراث کیا ہوتی، ان کا حال تو اس قبضہ گروہ کی مانند ہے جس نے جعلی رجسٹری بنا کر لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ وہی جنرل ظہیر السلام ہیں جنہوں نے نوازشریف سے کہا تھا کہ وہ بطور وزیراعظم استعفی دے دیں ورنہ ملک میں مارشل لا آ جائے گا اور انکار کی صورت میں وہ اور ان کا خاندان اس کی سزا بھگتے گا۔ تاریخ بہت ظالم ہے ایک ایک کر کے سارے پرت کھول رہی ہے۔ عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت کو فوج نے جس طرح رسوا کر کے گھر بھیجا اس کے سارے کردار ابھی تک عہدوں پر موجود ہیں۔ تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف سے ہرگز نہیں لکھا جائے گا۔ نیوٹرل ہونے کا دعویٰ یا وعدہ اگر صرف کسی مجبوری اور ضرورت کے تحت ہے تو وہ بھی سامنے آ جائے گا اور حقیقت میں اگر نیوٹرلز نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پاکستان کی سول اور ملٹری تاریخ کا ایک نیا باب کھلے گا۔ وہ لوگ جو اسے مہاتما سمجھتے تھے ان کی آنکھیں شائد کھل جائیں مگر کیا کریں کہ یہ محبت بہت ظالم ہے اور اس میں مبتلا شخص اچھے برے کی تمیز کھو دیتا ہے۔

جنرل ظہیر الاسلام کے اس اعترافی بیان کے بعد کیا اس بات کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے کہ منتخب حکومتوں کو عدلیہ کے ذریعے جس طرح رسوا کیا جاتا رہا اس کی انکوائری ہو۔ نوازشریف نے اس سے پہلے کارگل کے معاملہ پر انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا تھا تو اس کی سزا بھی بھگتنا پڑی تھی۔ آج شہبازشریف کی حکومت یہ رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ شہبازشریف ویسے بھی خود کو مقتدر حلقوں کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں اور خود کو ان کا امیدوار قرار دیتے رہے ہیں۔ نوازشریف نے ان کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور انہیں لولی لنگڑی حکومت بنانے کی اجازت دے دی۔ شہبازشریف اگر اس نازک صورتحال سے ملک کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہو گا ورنہ وہ بھی بہت سے دوسرے وزرا اعظم کی طرح ہوں گے جنہوں نے باتوں کے علاؤہ کچھ نہیں کیا۔ یہ درست ہے کہ محل راتوں رات تعمیر نہیں ہوتے اور اس کے لیے سرمایہ، محنت اور وقت درکار ہے لیکن اس جانب گامزن ہونے کے جو لوازمات درکار ہیں ان کو پورا کرنا ضروری ہے۔ سچ پوچھیں تو لوگوں کے لیے موٹر سائیکل چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ایک ہزار روپے دیہاڑی لینے والا تین سو 

کا پٹرول کیسے ڈالے گا اور اپنے خاندان کو کیا کھلائے گا۔ مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس نے عوام کو گھیر لیا ہے۔ کیا لوگ آپ کے وعدوں اور دعووں پر یقین کریں یا جھولیاں اٹھا کر آپ کو بددعائیں دیں کہ آپ کے پروٹوکول پر خرچ ہونے والا پٹرول عوام کے خون پسینہ کی کمائی سے ملتا ہے۔

مان لیجیے کہ آپ کی میڈیا مینجمنٹ اور عمران خان کو کاؤنٹر کرنے کا بیانیہ بہت کمزور ہے۔ اس محاذ پر عمران خان نے آپ کو پچھاڑ دیا ہے اور آپ عوام میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ آپ لوگوں تک یہ بات پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئے کہ معیشت کی یہ خرابی ان دو مہینوں کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے اسباب کچھ اور تھے۔ ایک تسلسل سے عوام کو یہ بتانے کی ضرورت تھی جو آپ کی ٹیم کے بس کی بات نہیں۔ آپ خود بھی خاموش ہیں اور عوام پر ٹیکس پر ٹیکس عائد کر رہے ہیں لیکن عوام کو یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ ملک کا بیڑا کیوں کر غرق ہوا ہے۔ نیوٹرلز اگر واقعی نیوٹرل ہیں تو اسلم بھوتانی نے اسمبلی کے اندر تقریر کرتے ہوئے یہ کیوں کہا کہ اب بھی ان کے فون آتے ہیں۔اسلم بھوتانی نے آن دی فلور کہا کہ انہوں نے فون کرنے والوں سے کہا ہے اگر ان کے فون میں کوئی جان ہے تو ہمارے مسائل حل کروائیں کہ تحریک انصاف کے ساتھ وہ خوش تھے کہ فنڈز ملتے تھے لیکن عزت نہیں تھی، اب عزت ملتی ہے لیکن فنڈز نہیں ہیں۔ 

کہانی صرف اتنی نہیں ہے کہ نیوٹرلز جو عمران خان کو لائے تھے وہ لا تعلق ہو گئے تھے مگر اس عرصے میں جو نقصان ہوا ہے اس کی ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔ عمران خان کی سیاست کی پیوند کاری کرنے کے تجربے کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا ہے۔ پاکستان میں بجٹ کا سب سے بڑا حصہ فوج کو ملتا ہے اور اس سے بڑا بجٹ قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہوتا ہے۔ یہ قرضے بھی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نہیں لیے گئے تھے بلکہ حکومتوں اور اشرافیہ نے اپنے مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا۔ آج عوام ان کی عیاشیوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہے۔ بیوروکریسی، فوج اور جنرلز کی ایک بڑی تعداد غیر ملکی شہریت حاصل کر چکی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ان ممالک میں ٹیکس فری پنشن وصول کریں گے اور قرضوں کے نام اور ٹھیکوں سے جو مال پانی بنایا ہے وہ ان کے بنکوں میں رکھیں گے۔ ان تک اس ملک میں یہ قانون موجود نہیں ہے کہ اعلی عہدوں پر صرف وہ لوگ ہی متمکن ہو سکیں گے جو کسی دوسرے ملک کی شہریت نہیں لیں گے۔ کوئی ایک ملک بتائیں جس کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی دوسرے ملک کی نوکری کر رہے ہوں۔ یہ اعزاز بھی پاکستان سے کوئی اب تک نہیں چھین سکا۔ فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں ججوں کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے اس میں کہاں تک صداقت ہے اس کو سامنے آنا چاہیے کہ سب سے زیادہ مراعات اور ٹیکس فری پیسہ بھی انہیں دیا جائے اور لوگ انصاف کے لیے دربدر ہوں یا بطور ادارہ وہ سیاسی انجینئرنگ میں ملوث ہو جائے۔ ایک سابق چیف جسٹس نے جس طرح ملک کو تماشا بنایا وہ کسی کی شہ پر ہوا تھا۔ اس مسئلہ کو عمران خان، نوازشریف یا کسی اور سیاسی شخصیت سے بالاتر ہو کر اٹھانا ضروری ہے کہ فوج، ایجنسیاں اور عدالتیں سیاسی عمل میں مداخلت سے باز رہیں۔ آنے والی ضمنی انتخابات میں یہ واضح ہو جائے گا کہ نیوٹرلز واقعی نیوٹرل ہیں۔ 

دوسرے ممالک، اداروں اور ایجنسیوں سے قرضے لینے سے پہلے اس پر ایوان کے اندر بحث کا عمل شروع ہو کہ کل کو ان قرضوں کی ادائیگی عوام نے کرنا ہے کہ جو لوگ یا ادارے قرض وصول کر رہے ہیں انہوں نے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کر کے رخصت ہو جانا ہے اور قرضوں کی ادائیگی کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے گا۔ عوام بھی اپنے سیاسی شعور کو بہتر کریں اور سیاست اور سوشل میڈیا پر موجود نوسربازوں کی لچھے دار باتوں میں نہ آئیں اور سوج سمجھ کر فیصلہ کریں۔ قوم کو تقسیم کرنے کی جو سازش رچائی جا رہی ہے اس کا قلعہ قمع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور آخر میں جنرل ظہیر الاسلام نے جو تقریر کی ہے اس کے بعد فوج کو اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہیے ورنہ تاریخ کے اوراق میں یہ لکھ دیا جائے گا کہ فوج نے سیاست کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کے لیے نہ صرف سیاسی جماعت بنائی بلکہ اسے اقتدار دلانے کے لیے تمام تر حربے استعمال کیے۔ ابھی تک آئی جے آئی کی تشکیل کا داغ نہیں دھلا تھا کہ نیا پنڈورہ باکس کھل گیا ہے۔ قوم تو پہلے ہی تقسیم تھی آج فوج بھی تقسیم ہو گئی اور یہ ایک بڑا المیہ ہے۔

مصنف کے بارے میں