شراب بنانے والی فیکٹری کو اجازت دینے کی مذمت کرتا ہوں، اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے: وفاقی وزیر علی محمد خان 

شراب بنانے والی فیکٹری کو اجازت دینے کی مذمت کرتا ہوں، اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے: وفاقی وزیر علی محمد خان 
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماءاور وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے شراب بنانے والی فیکٹری کو لائسنس جاری کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ میں ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا اور اسلامی ملک میں شراب بنانے کی کسی فیکٹری کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ 

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے شراب بنانے والی ایک چینی کمپنی ’ہوئی کوسٹل بریوری اینڈ ڈسٹلری لمیٹڈ‘کو لائسنس جاری کیا ہے جس نے بلوچستان کے علاقے حب میں پلانٹ لگایا ہے۔ یہ کمپنی گزشتہ سال 30 اپریل کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں بلوچستان کے شہر حب کے ایڈریس پر رجسٹر ہوئی تھی۔ 

وفاقی وزیر مملکت علی محمد خان نے نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں وہی کہوں گا جو ایک مسلمان کو کہنا چاہئے، میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں اور کابینہ میں بھی ایسا کچھ سامنے نہیں آیا۔ وزیراعظم عمران خان پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ میں واضح کر دوں کہ مدینہ کی ریاست ایک ہی تھی جو نبی کریم صلی اللہ و علیہ آلہ وسلم کے ہاتھوں بنی، ہم اس کی طرز کی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں اور ایک کوشش ہے کہ جتنا اس کے قریب تر ہوتے جائیں گے اتنا ہی پاکستان مضبوس تر ہوتا جائے گا۔ 

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شراب کی فیکٹری بنانے کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی اس اقدام کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ایک اسلامی ملک میں شراب بنانے کی کسی فیکٹری کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور کابینہ نے بھی اس کی کوئی منظوری دی ہے اور نہ ہی اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مدینہ کی ریاست کی طرز پر ریاست نہیں بننی چاہئے تو پھر پاکستان بنانے کا مقصد ہی کیا تھا، دنیا میں کوئی بھی ریاست مدینہ کی طرز پر حکومت نہیں بنا سکتا لیکن ہمارے لئے آئیڈل تو وہی ہے، اور جہاں تک شراب بنانے کی فیکٹری کو اجازت دینے کی بات ہے تو میں اس کی مذمت کر رہا ہوں۔