عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں شامل کیا جائے، مریم اورنگزیب

عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں شامل کیا جائے، مریم اورنگزیب
کیپشن:   عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں شامل کیا جائے، مریم اورنگزیب سورس:   فائل فوٹو

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں شامل کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاشی خودمختاری عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے حوالے کرنے والوں کو جیل بھیجا جائے۔ چہرے بدلنے سے ڈاکا نہیں چھپے گا اور ان کو جیلوں میں جانا پڑے گا۔ کرپٹ ٹولے کو برطرف نہیں بلکہ جیلوں میں ہونا چاہئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں شامل کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کےعہدے سے ہٹایا تھا۔ حفیظ شیخ کی جگہ تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی و وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کو وفاقی وزیر خزانہ بنایا۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ان کے معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر نے عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ وزیراعظم نے ندیم بابر سے گزشتہ سال پیش آنے والے پیٹرولیم بحران پر استعفیٰ مانگا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی 3 سال سے بھی کم مدت کے دوران وفاقی کابینہ میں تیسری مرتبہ بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ میں رواں برس اپریل میں تبدیلی کی گئی تھی جس کے تحت خسرو بختیار کو وفاقی فوڈ سیکیورٹی کی وزارت سے ہٹا کر اقتصادی امور، حماد اظہر کو اقتصادی امور کی جگہ وزارت صنعت جبکہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام کو وزارت غذائی تحفظ دی گئی تھی۔

حماد اظہر وزیرِ صنعت و پیداوار بننے سے قبل وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور تھے۔ اپریل 2020 میں چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد جب حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار سے اُن کا قلمدان لے کر اُنھیں وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور بنا دیا گیا تھا جبکہ حماد اظہر کو اقتصادی اُمور کی وزارت سے تبدیل کر کے وزیرِ صنعت و پیداوار بنا دیا گیا تھا۔

حماد اظہر اس سے قبل مالی سال 2019 تا 2020، اور 2020 تا 2021 کے لیے بجٹ بھی پیش کر چکے ہیں۔