3 رمضان المبارک : اسلامی تاریخ میں پیش آنے والے اہم واقعات کی تفصیل جانیئے

 3 رمضان المبارک : اسلامی تاریخ میں پیش آنے والے اہم واقعات کی تفصیل جانیئے

تاریخ میں 3 رمضان کا دن کئی واقعات کا حامل ہے۔ ان میں 11 ہجری میں دخترِ رسول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات ، 37 ہجری میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تحکیم اور 350 ہجری میں اندلس کے خلیفہ مستنصر باللہ کی بیعت نمایاں ترین واقعات ہیں۔


تاریخی ورثے کے محقق وسیم عفیفی کے مطابق سن 11 ہجری میں 3 رمضان المبارک کو سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کی رحلت کا واقعہ پیش آیا۔ ثقہ مؤرخین کے نزدیک اُن کی ولادت اُس سال ہوئی جس برس حجرِ اسود کی تنصیب کا واقعہ پیش آیا تھا۔

خطیب البغدادی کے مطابق سیدہ فاطمہ کو یہ نام اس وجہ سے دیا گیا کہ اللہ رب العزت نے انہیں اور ان کی اولاد کو آگ سے علاحدہ کر دیا تھا۔

بعض کے نزدیک انہیں زہراء کا نام اس لیے دیا گیا کہ وہ سفید رنگت رکھتی تھیں جس میں سُرخ رنگ کی آمیزش تھی۔ عرب سُرخی مائل سفید رنگ کو ازہر کے نام سے پکارتے تھے جب کہ مؤنث کے لیے زہراء کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو زہراء کا نام دیا تھا۔ اس لیے کہ وہ اپنے زہد ، خشیتِ الہی اور عبادت کے سبب آسمان والوں کے لیے اس طرح چمکتی تھیں جیسے زمین والوں کے لیے ستارے چمکتے ہیں۔

غزوہ بدر کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ ان کے تین بیٹے حسن ، حسین اور محسن رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے مگر محسن بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ ان کے علاوہ دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا بھی پیدا ہوئیں۔

سن 37 ہجری میں خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اسلامی ریاست کی تاریخ کی سخت ترین آزمائش دیکھنے میں آئی۔ یہ آزمائش حضرت علی اور حضرت معاویہ کے رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف کی صورت میں تھی۔ اسی برس 3 رمضان کو دونوں جلیل القدر صحابیوں کے درمیان تحکیم کا معاہدہ طے پایا۔ یہ پیش رفت جمل کے واقعے کے بعد سامنے آئی۔ تحکیم کے ساتھ ہی اسلامی ریاست کی تاریخ کے خطرناک ترین نظریاتی گروہ "خوارج" کا ظہور بھی جُڑا ہوا ہے۔مستنصر باللہ نے 3 رمضان کو اندلس کی حکم رانی سنبھالی۔

تاریخ کی عرب اور غیر ملکی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ مستنصر باللہ کو کتابوں کے عاشق کا خطاب دیا گیا۔ وہ ایک عالمی مرتبت مشہور بادشاہ ہونے کے ساتھ عالی ہمّت ، فقیہ ، انساب کو جاننے والا ، تاریخ کا حافظ ، علم اور علماء سے محبت رکھنے والا شخص تھا۔ وہ اندلس کا نواں حکمراں تھا۔ اس کا پورا نام الحكم بن عبد الرحمن الناصر بن محمد اور لقب المستنصر باللہ تھا۔ اُس کا دورِ حکومت 350 سے 366 ہجری تک رہا۔

مستنصر کا دور ہسپانیہ کے خطرے کی توسیع کے سبب نمایاں رہا مگر وہ ہسپانوی قوتوں کو ایک مرتبہ پھر سے حکمراں کی وفاداری میں لانے میں کامیاب ہو گیا۔

مستنصر کی شخصیت ادبی اور تاریخی پہلوؤں ، نسب شناسی ، علم سے محبت اور ثقافت کی سرپرستی کے سبب نمایاں حیثیت کی حامل تھی۔ اس کے دور میں 277 مدارس تھے جہاں مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ ان میں تین مدارس نے مساجد کے اندر ترقی کی منازل طے کیں جب کہ 24 مدارس قرطبہ کے مخلتف علاقوں میں تھے۔

مستنصر کی خلافت کا عرصہ 15 برس اور 5 ماہ پر محیط ہے۔ اُس نے 63 برس کی عمر میں وفات پائی۔ مستنصر نے اپنے بیٹے ہشام کو دس برس کی عمر میں جانشیں مقرر کر دیا تھا اور اسے مؤید باللہ کا لقب دیا۔