ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن (ر) صفدر نے اپنا بیان قلمبند کرا دیا

ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن (ر) صفدر نے اپنا بیان قلمبند کرا دیا
سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنا بیان قلمبند کرا دیا۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنا بیان قلمبند کرا دیا جس کے بعد عدالت نے سماعت 5 جون تک کے لیے ملتوی کر دی جب کہ فاضل جج نے کل کے لیے العزیزیہ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کو طلب کر لیا۔


اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی۔ اس موقع پر نامزد ملزمان نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی گئی جب کہ کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

آج کی سماعت کے دوران کیپٹن (ر) صفدر نے 48 سوالات کے جواب دیے جن میں سے بیشتر کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ سوالات ان سے متعلق نہیں ہیں۔

گزشتہ سماعت پر کیپٹن (ر) صفدر نے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 148 میں سے 80 سوالات کے جواب دیے تھے جب کہ نواز شریف اور مریم نواز پہلے ہی اپنے جوابات دے چکے ہیں۔

سماعت کے دوران اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے ملزم کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ واجد ضیاء کے پیش کردہ 12 جون 2012 کا خط میرے متعلق نہیں اور یہ خط فرد جرم قوانین کے مطابق تصدیق شدہ بھی نہیں۔

کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ موزیک فونسیکا کا خط بھی میرے متعلق نہیں،یہ خط پرائمری دستاویز نہیں جسے شہادت کے طور پر بھی نہیں لیا جا سکتا اور اس خط کو شہادت کے طور پر قبول کرنا شفاف ٹرائل کے منافی ہو گا۔

عدالتی سوال کہ واجد ضیاء نے کیپٹل ایف زیڈ ای سے متعلق سرٹیفکٹ پیش کیا کیا کہیں گے؟۔ جواب دیتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ سرٹیفکٹ مجھ سے متعلق نہیں اور نہ یہ فرد جرم سے متعلق ہے۔کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ واجد ضیاء کے پیش کردہ اسکرین شاٹس اور جافزا کے فارم 9 کی کاپی مجھ سے متعلق نہیں۔

اس موقع پر ملزم کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کا بہت سی چیزوں سے تعلق ہی نہیں اور بہت سی چیزیں ان کی شادی سے قبل کی ہیں۔

کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ گلف اسٹیل ملز کے 25 فیصد شئرز کی فروخت میں کبھی فریق نہیں رہا اور ذاتی طور پر شامل نہ ہونے کے سبب ان معاملات کا کوئی ذاتی علم نہیں۔

ملزم کیپٹن (ر) صفدر نے عدالت کو مزید بتایا کہ طارق شفیع سے 12 ملین درہم لے کر الثانی کو دینے کا سوال مجھ سے متعلق نہیں۔

عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کے خلاف مقدمہ کیوں بنایا گیا جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے اردو میں لکھا ہوا اپنا بیان عدالت کو پڑھ کر سنایا۔

جج محمد بشیر نے کیپٹن (ر) صفدر کا بیان خود لے کر دیکھا اور کہا کہ کہیں اس میں کوئی ایسی ویسی بات نہ ہو جس پر ملزم کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اس میں ایسا کچھ نہیں جس کے بعد کیپٹن (ر) صفدر نے اپنا بیان پڑھنا شروع کیا۔

ملزم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ مجھے نواز شریف کے ساتھ رشتے داری کی ہر دور میں قیمت ادا کرنی پڑی۔ کبھی جیلوں میں ڈالا گیا، جلاوطن کیا گیا اور ملازمت سے بھی برطرف کیا گیا۔

کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ نواز شریف کو محب الوطنی اور عوام دوستی کی سزا دی جاتی رہی ہے اور اب بھی انہیں سزا دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف سینہ سپر رہوں گا اور میرا نظریہ نواز شریف ہی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں