اسرائیل میں شرمناک کاروبار بڑھ گیا

اسرائیل میں شرمناک کاروبار بڑھ گیا

یروشلم:  گزشتہ دنوں اسرائیل میں بھڑکنے والی آگ کے بعد اسرائیلی علما نے اس آگ کو بدترین قرار دے دیا ہے اور ان کا کہناہے کہ یہ آگ ہماری اپنی کوتاہیوں اور غلط کاموں کی وجہ سے اللہ کی طرف سے عذاب کے طور پر بھڑکی ہے ۔اسرائیل کے ایک عالم دین کا کہناہے کہ  گزشتہ ماہ کیے گئے سروے کے بعد جو بات سامنے آئی تھی یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔واضع رہے کہ ”ٹائمز آف اسرائیل“ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سے کیے گئے ایک ملک گیر سروے میں اس بات کا پتا چلا ہے کہ اسرائیل میں جسم فروش خواتین اور مردوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس وقت 12ہزار اسرائیلی خواتین اور تقریباً ایک ہزار مرد اس مکروہ دھندے سے وابستہ ہیں۔


اسرائیل کی وزارت فلاح و بہبود کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق، ان میں سے 11فیصد خواتین کم عمر ہیں اور زیادہ تر خواتین پیسوں کی خاطر جسم فروشی پر مجبور ہیں۔ اس بارے میں جسم فروش خواتین کے حوالے سے کام کرنے والی ایک سماجی کارکن، انات کا کہنا ہے کہ ”اس دھندے سے منسلک خواتین کا ابتدا میں خیال ہوتا ہے کہ وہ جلد ہی اسے ترک کر دیں گی، لیکن پھر ان کے لیے اس دلدل سے نکلنا آسان ثابت نہیں ہوتا۔“

اسرائیلی وزارت فلاح و بہبود نے 700جسم فروش خواتین کا انٹرویو لیا اور اس دوران پتا چلا کہ ان میں سے 52فیصد سابق سوویت یونین میں پیدا ہوئی تھیں، تقریباً 9 فیصد نے 18برس کی عمر سے پہلے یہ کام شروع کیا اور ان میں سے 62فیصد خواتین مائیں ہیں، جبکہ 20فیصد ڈگری یافتہ ہیں۔اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیل میں جسم فروشی ممنوع ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ایک صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے، جو سالانہ ایک ارب 20 کروڑ کماتی ہے۔