پاکستان کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، مقابلہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو کردار ادا کرنا ہو گا،سینیٹر سراج الحق

پاکستان کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، مقابلہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو کردار ادا کرنا ہو گا،سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد:  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو کردار ادا کرنا ہو گا،پاکستان کو سیکولر اور لبرل بنانے کی بات کرنا تحریک پاکستان میں بہنے والے خون سے غداری ہے،حکمرانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے ملک آگے نہیں بڑھ سکا، انہی کے کرتوتوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا اور ملک کا ہر بچہ مقروض ہے،ہماری حکومت آئے گی تو ہم نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم دینگے، مفت تعلیم دی جائے گی، بچیوں کے لئے مفت تعلیم کا انتظام کریں گے اور جو اپنی بچیوں کو تعلیم نہیں دے گا وہ جیل جائے گا، بے روزگاروں کو بے روزگاری الاؤنس دیں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لئے بینکوں سے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ ہر یونین کونسل میں کھیل کا میدان بنایا جائے گا، نوجوانوں کی صلاحیت کے مطابق ان کی مدد کریں گے۔


امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبا کے زیراہتمام میگا ایجوکیشنل ایکسپو کے دوسرے روز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلامی جمعیت طلباء کو اس ایکسپو کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ نوجوانوں کے روشن چہروں کو دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے، خوشحال، ترقیافتہ اور اسلامی پاکستان کو کوئی نہیں روک سکتا، اگر نوجوانوں میں جذبہ موجود ہے تو ملک کا مستقبل روشن ہے، انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلباء ایک نظریاتی تنظیم ہے جس کا کام کسی سرمایہ دار جاگیر دار کے لئے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانا نہیں بلکہ ایک نصب العین کے تحت طلباء کی تربیت کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اگر آج پاکستان کے سینیٹ کا رکن ہوں اور جماعت اسلامی پاکستان کا امیر ہوں تو اس کی وجہ اسلامی جمعیت طلباء ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ اسلامی جمعیت طلباء کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں جھکنے کی بجائے اٹھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہمارے لئے اللہ کا تحفہ ہے۔ یہ چار صوبوں اور جغرافیے کا نام نہیں بلکہ ایک عقیدے کا نام ہے جس کا منشور چودہ سو سال پہلے اللہ کے نبیؐ نے بتا دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج کچھ لوگ پاکستان کو سیکولر اور لبرل بنانے کی باتیں کرتے ہیں پاکستان کو سیکولر اور لبرل بنانے کی بات کرنا تحریک پاکستان میں بہنے والے خون سے غداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سال ہو گئے ہمارے حکمرانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے ملک آگے نہیں بڑھ سکا۔ انہی کے کرتوتوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا اور ملک کا ہر بچہ مقروض ہے۔ انہی حکمرانوں کی وجہ سے آج سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان تو موجود ہیں لیکن پاکستان کہیں نظر نہیں آتا۔ حکمرانوں نے ملک کے ساتھ بے وفائی کی۔ آج بھی حکمرانوں کا قبلہ امریکا اور برطانیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں حکمرانوں نے وی آئی پی کلچر بنا رکھا ہے۔ یہ معاشی، نظریاتی اور سیاسی دہشت گرد ہیں جنہوں نے ہماری قوم کو تقسیم کیا ہے۔ ہم اس ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ خوشحال ترقیافتہ پاکستان کے لئے انقلابی بننا ضروری ہے۔ پاکستان میں ایک نہ ایک دن انقلاب آ کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم دینگے، مفت تعلیم دی جائے گی، غربت اور دولت کی بنیاد پر اپنے بچوں کو تقسیم کرنا بڑا ظلم ہے، ہم اس نظام کو تبدیل کریں گے اور ایک ایسا نظام لائیں گے کہ صدر پاکستان اور مزدور کا بچہ ایک ہی سکول اور کتاب سے پڑھیں گے۔ بچیوں کے لئے مفت تعلیم کا انتظام کریں گے اور جو اپنی بچیوں کو تعلیم نہیں دے گا وہ جیل جائے گا، بے روزگاروں کو بے روزگاری الاؤنس دیں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لئے بینکوں سے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ ہر یونین کونسل میں کھیل کا میدان بنایا جائے گا، نوجوانوں کی صلاحیت کے مطابق ان کی مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف سب سے پہلے جماعت اسلامی باہر نکلی، ہم نے ٹرین مارچ کیا، عدالتوں میں گئے اور اسمبلی میں آواز بلند کی، سراج الحق نے کہا کہ سندھ میں تبدیلی مذہب کے حوالے سے بنایا گیا قانون آئین پاکستان کے خلاف ہے۔ کئی صحابہ ایسے ہیں جنہوں نے 18 سال سے کم عمر میں اسلام قبول کیا، آصف زرداری سے کہتا ہوں کہ وہ اس قانون کو فوری طور پر واپس لیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کا مسئلہ اس وقت حل ہو گا جب جماعت اسلامی اقتداری میں آئے گی ہمارے کسی ایم این اے، ایم پی اے اور وزیر پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے نہ ہی ہمارا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا کہا ہے اگر مودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا سوچا تو ہم اس کا سانس بند کر دینگے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاستدانوں کے ہاتھوں میں برطانیہ اور امریکہ کا گرین کارڈ ہے۔ انہیں عوام سے اتنا ہی پیار ہے جتنا ایک گھڑ سوار کو اپنی سواری سے ہوتا ہے۔ عوام کے مسائل جماعت اسلامی ہی حل کر سکتی ہے۔

نیوویب ڈیسک< News Source