کیا آپ کو بھی کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حلق میں کچھ اٹکا ہو؟ یہ کیوں ہوتا ہے اور علاج کیسے ممکن ہے؟

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے گلے میں کوئی چیز پھنسی ہوئی محسوس ہوتی ہے کافی درد ہونے لگتی ہے۔

کیا آپ کو بھی کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حلق میں کچھ اٹکا ہو؟ یہ کیوں ہوتا ہے اور علاج کیسے ممکن ہے؟

نیویارک: کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے گلے میں کوئی چیز پھنسی ہوئی محسوس ہوتی ہے کافی درد ہونے لگتی ہے۔گلے میں کوئی چیز پھنسی ہونے کومارہرین صحت globus pharyngeusکا نام دیتے ہیں،اس بیماری کا شکار لوگوں کے گلے کے مسلز صحیح طریقے سے آرام نہیں کرپاتے جسکی وجہ سے گلے میں کوئی چیز پھنسی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں گلے کا انفیکشن،معدے میں تکلیف یا ذہنی تناﺅشامل ہیں۔آئیے آپ کو اس کے بارے میںبتاتے ہیں اور ساتھ ہی اس کے تدارک کے طریقوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔


گھریلو نسخے: اگر گلے میں کوئی کھانے کی چیز جیسے چیونگ گم پھنس جائے تو اس سے نجات کے لئے کوئی بریڈ کا ٹکڑا کھالیں۔بریڈ کے ٹکڑے کو چبائیں اور جب یہ گیلا ہوجائے تو گلے سے نیچے لے جائیں،گلے میں پھنسی چیونگم یاکوئی بھی کھانے کی چیز اس کے ساتھ نیچے چلی جائے گ۔اگر گلے میں مچھلی کا کانٹا پھنس جائے تو بریڈ کے ٹکڑے پر پینٹ بٹر لگائیں،اب بریڈ کو اچھی طرح چبائیں اور نگل لیں،مچھلی کا کانٹا خودبخود پھنسلکر پیٹ میں چلا جائے گا۔آپ گلے میں پھنسے کھانے کے ٹکڑوںکو شہد کھاکر بھی نکال سکتے ہیں۔ایک اور طریقے میں آپ چاہیں تو زور زورسے کھانسیں کہ اسطرح بھی گلے میںپھنسی چیز نکل جائے گی۔

معدے کی تیزابیت:اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تب بھی آپ کو محسوس ہوگا کہ گلے میں کوئی چیز پھنس گئی ہے۔World Journal of Gastroenterologyکا کہنا ہے کہ دنیا بھرمیں60فیصد لوگ اس مسئلے کا شکار ہیں۔اس بیماری سے بچنے کے لئے بیکنگ سودا کا استعمال کرنا چاہیے،ایک گلاس پانی میں آدھ چمچ بیکنگ سوڈا ملائیں اور پینے سے معدے کی تیزابیت کم ہوتی ہے۔ایک بات کا خیال رہے کہ بیکنگ سوڈا کا استعمال روزانہ نہ کریں کیونکہ اس کی وجہ سے دیگر پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔اسی طرح ایلوویرابھی معدے کی تیزابیت کے لئے مفید پایا گیا ہے،کھانے سے 20منٹ پہلے ایلوویرا جوس کا ایک گھونٹ پینے سے بھی معدے کی تیزابیت کم ہوگی۔

ذہنی تناﺅ: جب ہم ذہنی تناﺅ کا شکار ہوتے ہیں تو گردن کے پیچھے موجود پٹھوں پر سوزش آنے سے بھی گلے میں ابھار پیدا ہوتا ہے اور درد ہونے لگتی ہے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ذہنی تناﺅ کا شکار رہتے ہیں ان کے گلے میں زیادہ درد رہتی ہے لہذا ذہنی تناﺅکو کم کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔اپنے ذہنی تناﺅکو کم کرنے کے لئے بھرپور نیند لیں اور ساتھ ہی ذہن کو مسائل سے آزاد کریں۔

ٹانسلز: اس بیماری میں انفیکشن کی وجہ سے سوجن ہوجاتی ہے اور درد رہنے لگتی ہے۔اس بیماری میں گلینڈز سوج جاتے ہیں اور ساتھ ہی بخار بھی ہونے لگتا ہے۔اس بیماری کا سب سے بہترین قدرتی علاج نمک والے پانی کے غرارے ہیں،جس میں ایک کپ نیم گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ڈالیں اور اس سے غرارے کریں۔لہسن کو پیس لیں اور اسے15منٹ بعد دہی یا شہد میں ڈال کرکھانے سے بھی ٹانسلز کم ہوجائیں گے۔

گلے کاکینسر: بظاہر ایسا لگتا ہے کہ گلے میں کوئی چیز پھنس گئی ہے لیکن حقیقت میں یہ کینسر کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔اگر گلے کی درد زیادہ دیر تک برقرار رہے اور علاج کے باوجود بھی ٹھیک نہ ہورہی ہوتو فوری طورپر ڈاکٹر سے رابطہ کریں ۔