حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2،2 ،مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے کمی کا اعلان

حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2،2 ،مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے کمی کا اعلان
سکرین شاٹ

اسلام آباد:ڈالر کی قیمتوں میں اضافے اور پھر کمی کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2 ،2 روپے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کردیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ اسد عمر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2،2 روپے فی لیٹر کمی کررہے ہیں جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے اور لائن ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کررہے ہیں۔

اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے تک اضافے کی سمری حکومت کو ارسال کی گئی تھی تاہم عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے حکومت نے قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔

اسد عمر نے مزید کہاکہ آگے بہتری کی گنجائش نظرآرہی ہے، ٹیکس میں ردو بدل کررہے ہیں لیکن صارف کو فائدہ دینا چاہتے ہیں۔پاکستان کے ٹیکس پیئرکے پیسے سے غیرملکی تاجر کو سبسڈی دی گئی،قرضے روپے کی قدر برقرار رکھنے کیلئے استعمال کیے گئے، ابھی بہت کام کرنےکی ضرورت ہے لیکن صحیح سمت نظر آنا شروع ہوگئی ہے،ہم نے اپنا روزگار ایکسپورٹ کردیا، اس کا نقصان ہماری انڈسٹری کو ہوا، پچھلے چار سال میں ایکسپورٹ انڈسٹریز بند ہوئیں ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نےزراعت اور صنعت کو مستحکم کرنا ہے،مصنوعی طریقے سے رووپے کی قدربرقرار اور ڈالر کی کم رکھی جاتی تھی،مصنوعی طریقے سےروپےکی قدرزیادہ اور ڈالر کی کم رکھی جاتی تھی،ڈالر کی طلب زیادہ ہے اور دستیاب کم ہے۔

وزیرخزانہ کامٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا جبکہ کہا کہ ڈالر کا معاملہ طلب اور رسد سے جڑا ہواہے،پچھلے سال 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، روپے کی قدر پر بات کرنا چاہتا ہوں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔

 وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہےکہ  اسٹیٹ بینک اپنے طور پر فیصلے کررہا ہے اور مصنوعی طریقے سے ڈالر کو کنٹرول نہیں کرے گا۔ پاکستان پر غیر ملکی قرضے 95 ارب ڈالر تک جاپہنچا ہے، ہم نے ڈالر سستا کرکے اپنی پیداوار تباہ کرلی، پاکستان ڈالر سستا کرنے کی وجہ سے گندم برآمد نہیں کرسکتا، ڈالر سستا کرنے سے انٹرنیشنل پیداواری یونٹ کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، پاکستان میں ڈالر سستا ہونے کی وجہ سے جوتا بننا بند ہوگیا اور ٹیکسٹائل برباد ہوگئیں، ٹیکسٹائل یونٹ کباڑ دام بک گئے، ڈالر سستا ہونے کی وجہ ترسیلات زر بڑھیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، ڈالر کا معاملہ طلب اور رسد سے جڑا ہوا ہے، ڈالر کی طلب زیادہ ہے اور دستیاب کم ہے، ماضی میں مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر برقرار اور ڈالر کی کم رکھی جاتی تھی، اسٹیٹ بینک اپنے طور پر فیصلے کررہا ہے اور مصنوعی طریقے سے اسٹیٹ بینک ڈالر کو کنٹرول نہیں کرے گا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے زراعت اور صنعت کو مستحکم کرنا ہے، ابھی بہت کام کرنےکی ضرورت ہے لیکن صحیح سمت نظر آنا شروع ہوگئی ہے، عوام کے لیے مشکلات ہیں لیکن ہماری پالیسیوں کی وجہ سے جلد بہتری آئے گی۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان کے ٹیکس پیئرکے پیسے سے غیر ملکی تاجر کو سبسڈی دی گئی، قرضے روپے کی قدر برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے گئے، پچھلے چار سال میں ایکسپورٹ انڈسٹریز بند ہوئیں ہیں، ہم نے اپنا روزگار ایکسپورٹ کردیا، اس کا نقصان ہماری انڈسٹری کو ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی کا منفی اثر ہوتا ہے لیکن روپے کی قدر میں کمی کا آئی ایم ایف پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم آئی ایم ایف پروگرام میں جانا نہیں چاہتے، ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہواہے، سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی مثبت پیش رفت ہورہی ہے اور مختلف ممالک سے بڑی بڑی سرمایہ کاری بھی جلد نظر آئے گی۔