پیپلزپارٹی نے پارٹی قیادت کے میڈیا ٹرائل کا سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی نے پارٹی قیادت کے میڈیا ٹرائل کا سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ جعلی اکاؤنٹس کی جے آئی ٹی اور ایف آئی اے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔


سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ تحقیقات کے طریقہ کار سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے نتائج پہلے سے طے کئے جا چکے ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز چیف جسٹس اس معاملے پر مناسب کارروائی کریں گے۔ جب کہ پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان عامر فدا پراچا نے کہا ہے کہ 100دن سونامی تباہی مچاتی رہی اور سلیکٹڈ وزیراعظم کو ہوش نہیں کہ انہیں یاد ہو کہ وہ وزیراعظم بنا دئیے گئے ہیں۔

حکومت کی 100 دن کی مدت پوری ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عوام کامنتخب وزیراعظم اپنا منصب اور ذمے داری کبھی نہیں بھولتا۔ عمران خان اگر منتخب وزیراعظم ہوتے تو انہیں منصب اور عوام کا درد یاد رہتا۔ یہ فرق عوام کے منتخب وزیراعظم اور عوام پر مسلط کئے گئے وزیراعظم کے درمیان ہوتا ہے۔ ضروریات زندگی کی تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ حکومت کا معیشت پر کوئی کنٹرول نہیں۔ تاریخ عمران حکومت کو سلیکٹڈ اور یوٹرن حکومت لکھے گی جبکہ پی ٹی آئی کی سونامی کی یہ تباہ کاریاں قوم کبھی نہیں بھولے گی۔

جمعہ کو اپنے بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے میڈیا ٹرائل پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی جے آئی ٹی اور ایف آئی اے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ایک بیان میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ عدالت اعظمیٰ نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کے متعلق اپنے حکم میں تحقیقات کی میڈیا کو معلومات فراہم کرنے سے روکا تھا۔ یہ احکامات تحقیقات کو شفاف اور موثر بنانے کے لئے جاری کئے گئے تھے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایف آئی اے اور جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور میڈیا رپورٹس میں جے آئی ٹی کے ذرائع کے حوالے سے خبریں چلائی جا رہی ہیں۔ یہ سب قیاس آرائیاں حقائق کو توڑنے مروڑنے کے لئے جان بوجھ کر کی جا رہی ہیں۔ جس کا مطلب پیپلزپارٹی کی قیادت کو بدنام اور رائے عامہ کو الجھانا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ اپنے احکامات کی خلاف ورزی پر خاموش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور جے آئی ٹی کا یہ رویہ تحقیقات کرنے والوں کی ساکھ کے متعلق کئی سوالوں کو جنم دے رہا ہے۔ تحقیقات کے طریقہ کار سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے نتائج پہلے سے طے کئے جا چکے ہوں۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز چیف جسٹس اس معاملے پر مناسب کارروائی کریں گے۔