کسی لیڈر یا کارکن کو گرفتار کرنے سے تحریک نہیں رکے گی، مریم نواز شریف

Maryam Nawaz Sharif will not stop the movement from arresting any leader or activist
مریم نواز کی ملتان جلسے کیلئے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو: فائل فوٹو

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ کسی لیڈر یا کارکن کو گرفتار کرنے سے یہ تحریک نہیں رکے گی۔ ملتان کے بعد لاہور کا جلسہ بھی ہوگا، یہ حکومت گھر جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک پر مشکل آئی تو قوم کی بیٹیاں مریم نواز اور آصفہ بھٹو بھی گھروں سے باہر نکلی ہیں۔ کوویڈ 19 تو چلا ہی جائے گا لیکن کوویڈ 18 کو نکالنا ضروری ہے۔

جاتی امرا سے ملتان روانگی سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ملتان کا جلسہ ضرور ہوگا، چاہے وہ کسی سڑک پر ہی کیوں نہ ہو۔ میں اپنا ذاتی غم گھر چھوڑ کر قوم کے غم میں شریک ہونے جا رہی ہوں۔ حکومت نے غنڈہ گردی اور تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارکنوں پر جو ظلم کیا وہ مجھے کھینچ کر ملتان لے جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ناکے اور گرفتاریاں حکمرانوں کے خوف کی عکاسی ہیں۔ ملتان جلسہ منعقد ہونے سے پہلے ہی کامیاب ہو چکا ہے۔ میں ملتان کے شہریوں سے گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ وہ اس حکومت کی نالائقی کیخلاف جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہم اس جدوجہد میں سب سے آگے ہیں تو ملتان والے بھی باہر نکلیں۔

لیگی رہنما نے کہا کہ اس جلسے میں آصفہ بھٹو زرداری بھی تشریف لا رہی ہیں۔ ملک پر مشکل آئی ہے تو بیٹیاں بھی گھروں سے باہر نکلی ہیں۔ اب اس حکومت کے آخری چند دن ہیں۔ اس حکومت کو اپنا گھر جانا نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس والے بھی اس حکومت سے تنگ آ چکے ہیں۔ ملک میں کہیں ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے جلسے ہو رہے ہیں تو کورونا نہیں پھیل رہا۔ کیا سارے ایس او پیز اپوزیشن کے لئے ہیں؟

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایمپائر کی انگلی پر آنے والے کو ایسی جمہوریت والی باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا۔ ہم گرفتاریوں کے خوف سے دیواریں پھلانگنے والی نہیں، بغیر کسی گناہ کے لئے کئی بار جیل کاٹ چکی ہوں، تیسری بار بھی گرفتاری کا کوئی خوف نہیں ہے۔ مجھے گرفتار کیا بھی گیا تو کوئی ایشو نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملتان میں گرفتاریاں لاہور جلسے کو روکنے کی وجہ سے ہو رہی ہیں لیکن جلسہ ہو گا اور کامیاب بھی ہو گا۔

انہوں نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی ٹیلیفون ٹیپ کرتی ہے، یہ میرے لئے کوئی خبر نہیں ہے۔ آپ کا ماتحت ادارہ آپ کا فون ٹیپ کرتا ہے لیکن آپ کے اندر اتنی غیرت نہیں کہ آپ انہیں کہیں کہ یہ اس ادارے کا کام نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ذاتی غم پیچھے چھوڑ کر قوم کے غم کے لئے ملتان نکل رہی ہوں۔ حکومت نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملتان کو اکھاڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔ راستے میں لگا ہر کنٹینر ان کے خوف کا عکاس ہے۔ ملک پر مشکل وقت ہے، نالائق حکومت کیخلاف لوگوں کو جدوجہد کرنی پڑے گی۔ ملتان کے لوگ نکلیں اور اس نالائق حکومت سے جان چھڑائیں۔