عوام کا تمام اداروں سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے:شاہد خاقان عباسی

People's trust in all institutions is rising: Shahid Khaqan Abbasi

راولپنڈی:سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب عدالت میں آج پھرسماعت تھی، یہ کیس اڑھائی سال سے چل رہا ہے اور کیس میں کوئی کارروائی نہیں ہوسکی جبکہ عدالت سے 3 ہفتے بعد کی تاریخ مل گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا سیاسی انجینئرنگ کیلئے کیس دائر ہوتے ہیں، عدالتوں کا وقت ضائع کیا جاتاہے، ملکی ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں جبکہ عوام کا تمام اداروں سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔

شاہد خاقا ن عباسی نے مزید کہا کہ ایل این جی میں 122 ارب کا نقصان تو یہ کرچکے ہیں،اڑھائی سال میں حکومت کا ایک بھی مثبت کام نہیں ہے،2018 میں پہنچنے کیلئے اب 3 سے 5 سال درکار ہیں،ملک کے حالات اب بہت خراب ہوچکے ہیں جبکہ ہم اپنی کارکردگی پر ہی کھڑے ہوسکتے ہیں،چینی کی قیمتیں آج آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور فرنس آئل آج بھی امپورٹ کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ آج ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہے جس کے لئے انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی جبکہ حکومت نے جلسہ روکنے کیلئے تمام رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت  نے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی جبکہ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔

نیب راولپنڈی نے سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان کے خلاف ایل این جی کیس کا ضمنی ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا۔

ضمنی ریفرنس میں شاہد خاقان کے بیٹے عبداللہ خاقان سمیت پانچ نئے ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جس کے بعد ایل این جی ریفرنس میں ملزمان کی تعداد 15 ہو گئی ۔ نئے نامزد ملزمان میں عبداللہ خاقان، فلپ ناٹمین، چودھری اسلم، محمد امین اور ثناصادق شامل ہیں۔

چوہدری اسلم شاہد خاقان عباسی کی ائیر لائن کے ایم ڈی ہیں جب کہ فلپ ناٹمین کو ایل این جی ٹرمینلز کے لیے کنسلٹنٹ رکھا گیا تھا۔ محمد امین سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی ہیں۔

نیب نے اس سے قبل بھی ایک ریفرنس دائر کیا تھا جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دس ملزمان کو نامز کیا گیا تھا۔

پہلے ریفرنس کے مطابق اس کمپنی کو مارچ 2015 سے ستمبر 2019 تک 21 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا اور 2029 تک قومی خزانے کو 47ارب روپے کا نقصان ہو گا۔

 شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے علاوہ تیل کی سرکاری کمپنی پی ایس او کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔