اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری کا تحریری حکم نامہ جاری

اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری کا تحریری حکم نامہ جاری

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت نے متنازعہ ٹوئٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اعظم سواتی کا جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ 

تفصیلات کے مطابق سینئر سول جج اسلام آباد محمد شبیر کی جانب سے جاری کئے گئے ایک صفحے پر مشتمل تحریری حکم نامہ میں حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ سماعت پر اعظم سواتی کا پمز ہسپتال سے طبی معائنہ کروانے کے بعد انہیں 3 دسمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ 

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 3 دسمبر تک ملزم کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ میں توسیع پر اعتراض نہیں کیا، اعظم سواتی کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے لگائی گئی، تفتیشی افسر کے واٹس ایپ نمبر پر ویڈیو کال کے ذریعے اعظم سواتی کو سنا گیا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کے وکیل کے مطابق کچہری میں پیشی کے دوران ملزم کی جان کو خطرہ ہے، اگر اعظم سواتی کو عدالت لایا گیا تو ان پر حملے کی مصدقہ معلومات ہیں جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے پراسیکیوشن کی جانب سے کسی بدسلوکی یا بدتمیزی کی شکایت نہیں کی۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کی جاتی ہے، ان کا پمز ہسپتال سے طبی معائنہ کروانے کے بعد 3 دسمبر کو عدالت میں انہیں پیش کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں