حکومت کمزور ہوتی ہے تو ملک بھی کمزور ہوتا ہے، نواز شریف

حکومت کمزور ہوتی ہے تو ملک بھی کمزور ہوتا ہے، نواز شریف

لندن: جدہ سے لندن پہنچنے پر نواز شریف پھر عدالتی فیصلے پر برسے۔ کہتے ہیں جب وزیراعظم کو پاناما کے بجائے اقامہ پرنکالا جائے تو کہاں کا استحکام، کہاں کی ترقی اور خوشحالی؟۔ افواہیں بہت اڑتی ہیں لیکن افواہوں سے بچنا چاہیے تاہم جب حکومت کمزور ہوتی ہے تو ملک کمزور ہوتا ہے۔ اس موقع پر نواز شریف نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا کریڈٹ بھی اپنی حکومت کو دیا اور کہا کہ 4 سال پہلے کوئی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہیں تھی۔


انھوں نے احمد نورانی پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اس کی تہہ تک پہنچنا چاہیے کہ حملہ آوروں کے کیا عزائم تھے اور یہ اقدام کیوں کیا گیا؟۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب پاکستان میں استحکام آیا تو ہم نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جبکہ ہماری حکومت سے پہلے 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ کراچی کے حالات سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں کہ حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کراچی کے لوگوں سے پوچھیں 4 سال پہلے یہاں کے حالات کیا تھے۔

نواز شریف نے مشاورت کیلئے لیگی رہنماؤں کو لندن بلا لیا نواز شریف کی سربراہی میں مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے لیے لیگی رہنما آج مل بیٹھیں گے۔ اہم اجلاس میں شریف خاندان پر مقدمات، پارٹی اختلافات اور نواز شریف کی وطن واپسی کے معاملا ت زیر غور آئیں گے۔

ادھر ہیتھرو ایئرپورٹ پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اداروں میں ٹکراؤ اور ٹیکنو کریٹ حکومت کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ شہباز شریف اور خواجہ آصف بھی لندن میں ہیں جبکہ اسحاق ڈار طبی معائنے کیلئے پہلے ہی وہاں پہنچ گئے تھے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں