العزیزیہ ریفرنس، نواز شریف کا بطور ملزم آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ

العزیزیہ ریفرنس، نواز شریف کا بطور ملزم آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ
عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا بیان آئندہ سماعت پر بطور ملزم ریکارڈ کیا جائے گا۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں نیب نے حتمی بیان مکمل کر لیا جس کے بعد آئندہ سماعت پر نواز شریف بطور ملزم اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔


اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کی۔

آج کی سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں شواہد مکمل ہونے سے متعلق حتمی بیان دیا اور کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں ہمارے شواہد مکمل ہو گئے ہیں۔

نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ آئندہ سماعت پر نواز شریف کا بطور ملزم بیان قلمبند کیا جائے۔ عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا بیان آئندہ سماعت پر بطور ملزم ریکارڈ کیا جائے گا۔

نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے سپریم کورٹ کے 20 اپریل اور 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی کاپیاں بھی پیش کی گئیں جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 20 اپریل کا فیصلہ اس ریفرنس سے متعلق نہیں دوسرا فیصلہ آ جانے کے بعد پرانا فیصلہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دے رکھی ہے۔