فون نہ اٹھانے سے آئی جی ہیرونہیں بن جائیں گے،وزیراعظم آئی جی کو نہیں ہٹا سکتا تو الیکشن کا کیا فائدہ:فواد چودھری

فون نہ اٹھانے سے آئی جی ہیرونہیں بن جائیں گے،وزیراعظم آئی جی کو نہیں ہٹا سکتا تو الیکشن کا کیا فائدہ:فواد چودھری
سکرین شاٹ

اسلام آباد: اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ فون نہ اٹھانے سے آئی جی ہیرونہیں بن جائیں گے،وزیراعظم اگرآئی جی کونہیں ہٹاسکتاتوپھرالیکشن کاکیافائدہ جبکہ اعظم سواتی صحیح ہیں یاغلط یہ ان کامسئلہ نہیں۔


تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ قابل احترام ادارہ ہے جبکہ آئی جی وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کو جواب دہ ہے اور وزیراعظم کے ایگزیکٹو اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر کا فون نہ اٹھائیں، یہ ممکن نہیں کہ چیف سیکرٹریز اور آئی جیز فون نہ اٹھائیں، فون نہ اٹھانا حکومت یا اپوزیشن کامعاملہ نہیں، آئی جی، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کو جواب دہ ہے، فون نہ اٹھاکر ہیرو بننے کا بیانیہ پھیلایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ 5 سال کے دوران خیبرپختونخوا میں شکایات پر پولیس والوں کے تبادلے کیے گئے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے، ممکن نہیں کہ آئی جی، ڈی سی یا کوئی اور وزیراعظم اور دیگر کو جواب دہ نہ ہوں۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا ایم این اے بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ ووٹ لے کر آتاہے، اداروں پر پولیٹیکل اوورسائٹ ضروری ہے اور وزیراعظم کے ایگزیکٹو اختیارات ہیں وہ اپنے اختیارات استعمال کریں گے، سپریم کورٹ قابل احترام ہے وہ جوفیصلہ کرے گی وہ قبول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے پارلیمنٹ آئیں، اے پی سی کی تک سمجھ نہیں آتی، یہ این آر او لینے کے لیے ہورہی ہے لیکن کچھ بھی ہوجائے این آر او نہیں ملے گا، ہم کہہ رہے ہیں نارو وہ کہہ رہے ہیں این آر او۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چودھری کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنایا تو اجلاس کیا جیل میں بلائیں گے؟ اپوزیشن کے پاس نیک پاک لوگ تو ہیں نہیں، جس پر ہاتھ رکھیں اس پر نیب کے چھ کیس نکل آتے ہیں۔

وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ نوازشریف، شہبازشریف اور آصف زرداری چاہتے ہیں مقدمات نہ چلائے جائیں، عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی این آر او نہیں ملے گا۔

بنی گالہ تجاوزات کیس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا گھر سی ڈی اے کی حدود میں نہیں آتا تھا، ان کا کا گھر موہڑہ نور یونین کونسل کی حدود میں آتاتھا، تیس سال قبل یہ گھر بنا تھا جو پچھلے قوانین کے تحت بنا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دو دنوں میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 1450 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، یہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہارہے۔

وزیراطلاعات نے بتایا کہ سٹیزن پورٹل پر آنے والی شکایات پر عمل درآمد سے آگاہ کیا جائے گا۔ اب تک ایک لاکھ شکایات موصول ہوچکی ہیں جن میں سے 20 ہزار سندھ سے آئی ہیں۔