شہباز شریف سے کہتا ہوں بوٹ پولش کرنے والوں سے بات نہیں کرتا: عمران خان 

شہباز شریف سے کہتا ہوں بوٹ پولش کرنے والوں سے بات نہیں کرتا: عمران خان 

مریدکے: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شہبازشریف کے پاس کس وجہ سے پیغام بھجواؤں گا، شہبازشریف سے کہتا ہوں بوٹ پالش کرنے والوں سے بات نہیں کرتا، غلامی سے موت بہتر ہے،اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔ 

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان لانگ مارچ کی قیادت کیلئے مریدکے پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مریدکے کے عوام رات سے میرا انتظار کرتے رہے، عوام کا جو سمندر یہاں نظر آ رہا ہے وہ اندھیرے میں نظر نہیں آنا تھا اور مجھے مریدکے کے لوگوں پر اعتماد تھا، جانتا تھا وہ ضرور آئیں گے، مریدکے کے عوام کو بھرپور استقبال پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ 

انہوں نے وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے کہا اسے میں نے پیغام پہنچایا آرمی چیف کے معاملے پر بیٹھ کر بات کریں، شہبازشریف سے کہتا ہوں بوٹ پالش کرنے والوں سے بات نہیں کرتا، میں نے ان سے بات کی جن کی گاڑی کی ڈگی میں شہبازشریف چھپ کر جایا کرتے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کے پاس بات کرنے کیلئے کیا ہے؟ شہباز شریف کو جس طرح لا کر بٹھایا گیا، اس نے امریکیوں کے گھٹنے دبائے، شہباز شریف حکومت میں آنے کیلئے گاڑی کی ڈگی میں چھپ کر گئے، شہبازشریف کے پاس کس وجہ سے پیغام بھجواؤں گا، ان لوگوں سے بات کی جو شہبازشریف کو اشاروں پر چلاتے ہیں اور صرف ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کرانے کے حوالے سے بات کی۔ 

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں، امریکہ اور کسی اور سے مدد نہیں مانگتا، ذوالفقار بھٹو کی طرح ایوب خان کو ڈیڈی نہیں کہتا تھا، کسی کے پاؤں نہیں پکڑے، اسٹیبلشمنٹ کے پاؤں نہیں پکڑے، بڑے ڈاکوؤں کو لا کر ہم پر مسلط کر دیا گیا، ان لوگوں نے کروڑوں روپے خرچ کر کے لوٹوں کے ضمیر خریدے لیکن میں عوام کے ووٹوں کی طاقت سے برسراقتدار آیا ہوں اور اب بھی عوام اپنے ووٹوں سے جو فیصلہ کریں وہ مجھے قبول ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے ان لوگوں کو این آر او دیا اور انہوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، جے آئی ٹی کی رپورٹ سے ثابت ہوا نواز شریف کرپٹ ہے، آصف زرداری کی لوٹ مار کی داستانیں بھی آپ سامنے لائے لیکن آج آپ ان چوروں کے ساتھ کھڑے ہو چکے ہیں اور چوروں کے ساتھ کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کرتے ہیں مگر قوم اس امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے، غلامی سے موت بہتر ہے، اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا، ان چوروں کے خلاف عوام نے مجھے ووٹ دے کر منتخب کیا۔ 

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں الیکشن کے ساتھ قانون کی حکمرانی چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں پاکستان کے عوام کے حقوق کی حفاظت کی جائے، پاکستان کے عوام بھیڑ بکریاں نہیں، جیتے جاگتے انسان ہیں، چاہتا ہوں پاکستان کی فوج مضبوط فوج بنے، عوام اس کے ساتھ کھڑی ہو، ملک کو آزاد رکھنے کیلئے ہمیں مضبوط فوج چاہئے، فوج پر تنقید نہیں کرنا چاہتا، میری تنقید اصلاح کیلئے ہوتی ہے، فوج پر جب بھی تنقید کرتے ہیں تعمیری تنقید کرتے ہیں، قوم کو ساتھ لے کر چلیں گے، ہمارا جہاد حقیقی آزادی کیلئے ہے۔ 

مصنف کے بارے میں