امریکی وزیر بھی پاکستانی وزرا کی راہ پہ چل پڑے

امریکی وزیر بھی پاکستانی وزرا کی راہ پہ چل پڑے

واشنگٹن: امریکی وزیر بھی پاکستانی وزرا کی راہ پہ چل پڑے،امریکی وزیر صحت سرکاری دوروں کے لئے مہنگے جہازوں میں سفر کرنے پر معافی مانگتے ہوئے مستعفی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر صحت ٹام پرائس سرکاری دوروں کے لیے نجی جہازوں میں سفر کرنے پر نہ صرف معافی مانگ کر مستعفی ہوگئے بلکہ انہوں نے قومی خزانے سے خرچ ہونے والی رقم واپس لوٹانے کی بھی پیش کش کردی۔


سرکاری دوروں میں شاہانہ اخراجات پر امریکی وزیر صحت مستعفی

امریکی میڈیا کے مطابق ٹام پرائس نے چارٹرڈ طیاروں میں سفر پر قومی خزانے کی 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم لٹا دی اور یہ خبر سامنے آنے کے بعد عوام نے شدید غم و غصے کا مظاہرہ کیا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے وزیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ناراضی کا اظہار کیا۔

ٹام پرائس نے اپنے استعفے میں مہنگے جہازوں پر سفر کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی وجہ سے محکمہ صحت کے کام سے توجہ ہٹ گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دوروں پر خرچ ہونے والی رقم قوم کو واپس لوٹانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ٹام پرائس نے اپنے بیان میں کہا کہ میں دوروں میں عوام کے پیسے کو خرچ کرنے میں واقعی غیرمحتاط ہوگیا، میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ امریکی عوام یہ بات جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی محنت کی کمائی کو سرکاری حکام سمجھداری اور دھیان سے خرچ کررہے ہیں یا یونہی اڑا رہے ہیں۔

ٹام پرائس کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انہوں نے ناروے کے دورے کے لیے فوجی طیارے کا بھی استعمال کیا۔ سرکاری دوروں میں مہنگے اخراجات اور نجی جہازوں کے استعمال پر ٹرمپ کابینہ کے مزید تین وزرا کے خلاف بھی تحقیقات کی جارہی ہیں جن میں وزیر داخلہ ریان زنکی بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں ضابطے کے تحت قومی سلامتی افسران کے سوا باقی تمام سرکاری عہدے داروں کو صرف عوامی طیاروں سے سفر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے وزیر صحت ٹام پرائس کا استعفی منظور کرلیا ہے اور ان کی جگہ ڈان جے رائٹ کو قائم مقام وزیر صحت بنایا گیا ہے