پیچھے سے مال مہنگا آتا ہے۔۔۔۔تحریر:عبدالحاکم خان

پیچھے سے مال مہنگا آتا ہے۔۔۔۔تحریر:عبدالحاکم خان

پاکستان میں جمہوریت ہے اور جمہوریت سے مرادـ" جمہور " یعنی عوام کی حکمرانی ہے۔لیکن جب عوام کا کوئی پرسان حال نہ ہو تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا پاکستان میں واقعی عوام کی حکمرانی ہے؟اس بلاگ کا مقصد تنقید برائے تنقید کرنا نہیں بلکہ حکومت کی توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کرانا ہے جن پر قابو پانا نہ صرف انتہائی ضروری ہے بلکہ زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہے۔اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھ جانے سے عام آدمی بالعموم اور غریب طبقہ بالخصوص براہ راست زیر اثر آتا ہے۔


در اصل مسئلہ تب سنگین ہو جاتا ہے جب ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخون پر کوئی بھی چیز ملنا ایک خواب بن جاتا ہے۔لاہور پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہاں پنجاب کے باقی شہروں کے مقابلے میں ضلعی انتظامیہ زیادہ متحرک نظر آتی ہے لیکن اس کے باوجود پورے لاہور میں آپ کو نہ چینی سرکاری نرخ پہ ملے گی، نہ آٹا، نہ گوشت،نہ دالیں، نہ سبزیاں، نہ پھل نہ دودھ ا ور نہ ہی کریانہ سٹور سے کوئی بھی چیز۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر غریب طبقے کا کوئی گزارہ نہیں ہے ۔لہذا حکومت کی اولین ترجیح ان اشیاء کی سرکاری نرخون پر فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانا ہونا چاہئے تھا۔

بد قسمتی سے حکومت کی طرف سے بنائی گئی پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال نظر آتی ہیں۔جس کا جو دل کرتا ہے اپنی طرف سے قیمت مقرر کر لیتا ہے اور جب پوچھا جائے کہ بھائی آپ سرکاری نرخ پے کیوں نہیں بیچ رہے تو پہلے تو انکے پاس سرکاری نرخ نامہ ہوتا ہی نہیں اور اگر ہو بھی تو جواب ملتا ہے کہ پیچھے سے مال مہنگا آیا ہے۔

سب سے پہلے تو حکومت کو یہ پتہ لگانا چاہئے کہ یہ پیچھے سے کہاں سے مال مہنگا آرہا ہے اور عوام کو آگاہ کیا جائے۔پرسوں رحمان پورہ مین بازار میں ایک پھل فروش کی دوکان پر کچھ فروٹ خریدنے گیا ، میں نے سوچا کہ آج ہر روز کی طرح آنکھیں بند کرکے خریداری کرنے کی بجائے سرکاری نرخ نامے کے ساتھ نرخ  چیک کرلیتا ہوں۔سرکاری نرخ نامہ ہاتھ میں لئے میں مختلف پھلوں کے نرخ پوچھتا رہا، دوکاندار کے منہ سے ہوش ربا نرخ سن کر میرا بلڈ پریشر بڑھتا گیا کیوں کہ سرکاری نرخنامے اور دوکاندار کے ذاتی مقرر کئے گئے نرخوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

مثلاناریل کا سرکاری نرخ 155روپے جبکہ دوکاندار نے اپنی طرف سے 280روپے نرخ مقرر کیا تھا،سندرخانی انگور کا سرکاری نرخ 215روپے تھا جبکہ دوکاندار فی کلو 350 روپے بتا رہا تھا، اسی طرح تمام پھلوں کی قیمتوں میں 50فی صد سے لے کر100 فی صد تک کی منافع خوری ہو رہی تھی۔ میں نے دوکاندار سے تقاضہ کیا کہ بھائی آپ سرکاری نرخ سے دو گنا کیوں مانگ رہے ہیں تو جواب ملا کہ اس بازار میں ایک بھی بندہ سرکاری نرخ پے چیزیں بیچتا نظر آئے تو واپس میرے پاس آجائیں میں آپکو مفت میں دے دوںگا۔

 یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پورا بازار حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہا ہو اور حکومت خاموش ہو، یہ سوچ کر میں نے آگے مختلف دوکانوں پر پھلوں کے نرخ جانے جو کہ مذکورہ پہلے دوکاندار کے نرخوں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے۔پھر میں سبزی فروش کی دوکان پر گیا وہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی، ٹماٹر کا سرکاری نرخ 80 روپے جبکہ بازار میں 120 سے 140 تک کے خود ساختہ نرخ مقرر تھے۔

بات صرف یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ کریانے کی دوکان پے جا کر پوچھا تو میرا بلڈ پریشر مزید بڑھ گیا، کیوںکہ کوئی بھی چیز سرکاری نرخ پے دستیاب نہیں تھی، چینی 110 روپے کلو، آٹا80 روپے کلو، بیف 600 روپے کلو جبکہ مٹن 1400 روپے کلو مل رہا تھا۔میں نے ان تمام دوکانداروں سے سرکاری نرخ نامے پر عمل نہ کرنے کا پوچھا تو سب کا ایک ہی جواب تھا کہ پیچھے سے مال مہنگا آتا ہے۔

نا جائز منافع خوروں کو تو خدا کا بھی خوف نہیں ہوتا ایسے میں ان کو صبح صبح سرکاری نرخ نامے پکڑانے سے حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ حکومت کو چاہئے کہ ناجائز منافع خوری ختم کرنے کے لئے ایسا مربوط نظام لائے کہ کوئی بھی دوکاندار سرکاری نرخ نامے سے ایک روپیہ بھی زیادہ نرخ رکھنے کی جرأت نہ کر سکے۔کچھ عرصہ پہلے پنجاب حکومت نے قیمت پنجاب کے نام سے موبائل ایپ متعارف کروائی تھی جو کہ کسی نہ کسی حد تک مفید ضرور تھی لیکن یہ اس معاملے کا مستقل حل نہیں۔

اس معاملے کا واحد حل علاقے کے معززین پر مشتمل کمیٹی جس میں ضلعی انتظامیہ کے نمائندے بھی ہوں بنائی جائے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر صبح و شام بازاروں کے دورے کریں اور ناجائز منافع خوروںکو فوری طور پر سخت ترین سزائیں سنائے۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس کرنے کو بہت کام ہیں، حکومت بہت زیادہ مصروف ہے لیکن اس مسئلے کا براہ راست تعلق عوام اور خصوصا غریب طبقے سے ہے لہذا اس معاملے کو اولین ترجیح سمجھ کر دیکھا جائے اور عوام کو ناجائز منافع خوروں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔

تحریر:عبدالحاکم خان

Ahkhan87.ah@gmail.com