بھارت کی ہمالیہ میں سڑکیں تعمیر کر کے چین کی برابری کی کوشش

بھارت کی ہمالیہ میں سڑکیں تعمیر کر کے چین کی برابری کی کوشش

چلنگ:بھارتی وزیر اعظم نریندر مو دی نے چین کے ساتھ مسلسل سرحدی جھڑپوں میں ہزیمت اٹھانے کے بعد اب چین کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سڑکوں ٗ سرنگوں اور پلوں کی تعمیر کا کام شروع کروا کر یہ کوشش شروع کر دی ہے کہ وہ چین کے ہم پلہ ہو سکیں کیونکہ بھارت کے پسماندہ سرحدی علاقے کے دوسری طرف چین نے سڑکوں ٗ سرنگوں اور ہیلی پیڈز کا ایک جال بچھا رہا ہے۔


عالمی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی خصوصی ہدایات کے بعد اب اس سلسلہ کی ایک سڑک کی تعمیر کا آغاز بھارتی  بارڈر روڈز آرگنائزیشن  نے گزشتہ کئی ماہ قبل کر دیا ہے۔یہلداخ کی طرف جانے والی اکلوتی سڑک ہو گی جو چین اور بھارت کے درمیان  متنازعہ سرحدی علاقے تک بھی رسائی فراہم کرے گی۔ ہیوی مشینری بڑی آسانی سے کھدائی کے دوران مٹی کو دریائے ’’زنسکر‘‘ میں گرانے میں مصروف ہے اور یہ ساری سرگرمیاں بھارت چین کی سرحد کے قریب کر رہا ہے۔ 


تعمیراتی کام بھارت میں ’’چلنگ‘‘ کے گائوں کے پاس بڑی تیزی سے جاری ہے اور یہ تعمیراتی مقام چین اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے میدان سے تقریبا 250 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ جب یہ سڑک تعمیر ہو جائے گی تو یہ بھارت کو لداخ کے سرحدی علاقوں کی طرف جانے کیلئے واحد راستہ فراہم کرے گی۔ یہ اقدام ہندوستان کی چین کے برابر ہونے کی ایک کوشش ہےجہاں پر سرحد کے دوسری طرف چین نے سڑکوں اور ہیلی پیڈز کا ایک جال بچھا رکھا ہے۔ 


یہ سڑک آگے جا کرلداخ میں انڈیا کی طویل ترین 8.8کلو میٹر طویل سرنگ کے ساتھ مل جائیگی جس کا افتتاح آئندہ ہفتے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کرنے والے ہیں۔ یہاں پر کام کرنے والا ایک مزدورالیاس جس کا چہرہ اور خاکی ور دی مٹی میں اٹی ہوئی تھی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 8 ماہ سے مسلسل یہاں پر مزدوری کرنے میں مصروف ہے اور مارچ میں پیدا ہونے والے اپنے بچے کو دیکھنے کیلئے وہ کیرالہ بھی نہیں جا سکا۔ 


یاد رہے کہ اسی سرحدی علاقے میں جون کے مہینے میں چین اور بھارت کے درمیان ایک خونی جھڑپ میں بھارت کو اپنے 20 فوجی جوانوں کی لاشیں اٹھانا پڑیں تھیں جبکہ چین کو بھی فوجیوں کی لاشیں وصول کرنا پڑی تھیں۔