بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سرنگ کی تعمیر شروع کر دی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سرنگ کی تعمیر شروع کر دی

سرینگر: بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں سٹریٹجک سرنگ کے منصوبے کی تعمیر پر کام کر رہی ہے اور اس پراجیکٹ پر سینکڑوں افراد کام پر مامور ہیں تاکہ اگلے انتخابات سے قبل یہ منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔ 

مقبوضہ کشمیر میں واقع ہمالیہ کے پہاڑوں میں سینکڑوں افراد سرنگ کی تعمیر کے منصوبے پر کام میں مصروف ہیں اور اس کیساتھ ہی مختلف پل بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو آپس میں ملایا جا سکے۔ 

سٹریٹجک اہمیت رکھنے والے لداخ کی سرحدیں پاکستان اور چین کیساتھ ملتی ہیں اور تقریباً 6 مہینے یہ برف میں ڈھکا رہتا ہے جس کے باعث یہاں آمدورفت اور اشیاءکی سپلائی کیلئے ہوائی سفر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ 

بھارتی حکام کے مطابق چار حصوں پر مشتمل اس سرنگ کا 6.5 کلومیٹر کے پہلے حصے کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ موسم سرما میں سونامرگ کے علاقے تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہو جائے گی۔ 

سونامرگ” conifer-clad mountains “ کا اختتام ہے اور اس کے بعد چٹیل پہاڑی علاقے زوجیلا پاس کیساتھ لداخ کا علاقہ شروع ہوتا ہے جسے سفر کیلئے انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ 

932 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی سرنگ کا آخری حصہ 14 کلومیٹر طویل ہے جو زوجیلا پاس کے علاقے کو بائی پاس کرتے ہوئے سونامرگ کو لداخ کیساتھ ملا دے گا۔ 

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ 11 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ بھارتی تاریخ کی سب سے طویل اور اونچی سرنگ ہو گی اور بھارت سرکار آئندہ عام انتخابات سے پہلے اس کی تعمیر مکمل کرنا چاہتی ہے۔ 

لداخ میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں ’حقیقی لائن آف کنٹرول‘ کہلائے جانے والے علاقے میں لاکھوں چینی اور بھارتی فوجی تقریباً 16 ماہ تک آمنے سامنے رہے، حتیٰ کہ ان کی مدد کیلئے آرٹلری، ٹینک اور جنگی طیارے بھی بالکل تیار تھے۔ 

بھارتی فوجی منصوبہ ساز اس منصوبے کو لداخ کیلئے انتہائی اہم سمجھتے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سرنگ کی تعمیر سے بھارتی فوج کو لاجسٹک سہولت میسر ہو گی اور لداخ کے علاقے میں اس کی رسائی آسان ہو جائے گی۔ 

بھارتی سیاستدانوں کو بھی اس پراجیکٹ میں مواقع نظر آ رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ زوجیلا تک تعمیر ہونے والا سرنگ کا پہلا حصہ 2026ءتک کھول دیا جائے گا مگر بھارت کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز نیتن گادکاری کو امید ہے کہ اس منصوبے پر کام 2024ءتک مکمل ہو جائے گا۔ 

نیتن گادکاری نے سرنگ کی تعمیر کا جائزہ لینے کیلئے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں یہ ایک چیلنج ہے مگر میں پراعتماد ہوں کہ سرنگ کی تعمیر انتخابات سے مکمل ہو جائے گی۔