فاسدنظام تعلیم کا پہلا شہید

فاسدنظام تعلیم کا پہلا شہید

ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ اس شخص نے اپنے بچے پر تیل چھڑک کر جب آگ لگائی تو وہ کس خوش فہمی میں مبتلا تھا اگر وہ یہ گھنائونا فعل محض اپنے بچے کو ڈرانے کے لئے بھی انجام دے رہا تھا تو بھی اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی ہے،پھول جیسے بچے کو اپنے ہاتھ سے آگ لگا دینا ایسی گری ہوئی اور ناپاک، مذموم حرکت ہے،جس کی مذمت کے لئے بھی الفاظ ملنا مشکل ہیں۔ اس سانحہ کی وڈیو میڈیا پر دیکھ کر درد دل رکھنے والا ہر شخص افسرودہ تھا، اس بچہ کی تصویر نے تو اور بھی پریشان کردیا اتنا پیارا بچہ محض اس لئے آگ کی نذر ہو گیا کہ اس نے پڑھائی میں نمبر کم لئے تھے،عمر کے اعتبار سے یہ کوئی بڑی کلاس کا طالب علم دکھائی نہیں دیتا تھا کہ اچھے نمبرنہ آنے سے اس کا مستقبل خدانخواستہ تاریک ہو نے کا خدشہ تھا۔نہ جانے اس کا والد کس خوف میں مبتلا تھا کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی دنیا ہی اجاڑ دی، اب وہ پابند سلاسل ہے، اس لئے نبی مہربان ؐ نے غصہ کو حرام قرار دیا ہے ،اس لمحہ شیطان انسان کو حیوان کے درجہ تک لے جاتا ہے اور وہ فرط جذبات سے مغلوب ہو کر وہ انسانیت سوز قدم اٹھاتا ہے کہ اس کے بعد پچھتاوا ہی پچھتاوا زندگی میں رہ جاتا ہے ،یہ بد قسمت خاندان اب سے دو چار ہے۔

باپ نے بچے کو ماہانہ ٹسٹ میں کم نمبر لینے پر آگ کے شعلوں کی بھینٹ چڑھا دیا، اس کی موت کے بعد اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہو چکا ہو گا، اس معصوم کا قصور یہ تھا وہ سکول سے آنے بعد دوسرے بچوں کے ہمراہ پتنگ بازی کرنے چلا گیا، 12سال کی عمر میں وہ اچھا پتنگ باز بن گیا، مگر والد کو بچے یہ صلاحیت مطلوب نہ تھی وہ تو اس کو ارسطو اور افلاطون سے کم مرتبہ پر دیکھنے کا خواہاں نہ تھا، یہی جرم بچے کی موت کا سبب بنا، غالب امکان یہ ہے کہ اورنگی ٹائون کے رہائشی کے سر سے جب بچے کے زیادہ نمبروں کا بھوت اترے گا تواس کی اندھیر دنیاسامنے ہوگی، ایک تو گھنائونے جرم کی سزا کی تلوار اس کے سر پر لٹکے گی، دوسراغربت کا مارا یہ خاندان مزید غربت کی دلدل میں اُتر جائے گا، سارا زمانہ یہ غم بھول بھی جائے مگر ماں کی مامتا کبھی بھی فراموش نہ کر پائے گی۔

بُرا ہو اس نظام تعلیم کا، جس نے بچوں سے اِنکی خوشیاں اور فطرت چھین لی ہے، یہ بیچارے کھیلنا بھول گئے ہیں، کمروں میں بند یہ ننھے پھول اپنے ہوم ورک میں گم رہتے ہیں، سورج کی پہلی کرن کے ساتھ انکی تعلیمی سر گرمیاں شروع ہوتی ہیں اور رات کے آخر پہر تک یہ سلسلہ چلتا ہے،ابتدائی کلاسوں میں مضامین کی اتنی بھر مار ہے کہ انھیں سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ، لارڈ میکالے کے اس نظام کی کوکھ سے نمبروں کی ایسی دوڑ برآمد ہوئی ہے، کہ چھوٹی عمر ہی میں بچے اپنی فطرت کے خلاف افسردہ نظر آتے ہیں جنہیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ المیہ یہ بھی ہے بھاری بھر کم نمبر لینے کے باوجود ہمارے تعلیمی اداروں سے کوئی بڑا سائنسدان برآمد نہیں ہورہا، بچوں کے ساتھ ساتھ والدین بھی ہر وقت متفکررہتے ہیں، ابتدائی کلاسز ہی میں داخلہ ان کیلئے پل صراط پار کرنے کا معاملہ لگتا ہے، داخلہ کے لئے کڑی شرائط ہرسکول انتظامیہ کی طرف سے عائد کی جاتی ہے کہ محسوس یوں ہو تا کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد یہ سیدھا خلاء میں پہنچ کر نئی دینا دریافت کرے گا، مگر زمینی حقائق اس خواہش اور خواب سے قطعی مختلف ہیں، ڈگریوں کے حامل لاکھوں نوجوان بے روزگاری کے سمندر میں غوطہ زن ہیں، بہت سے تو ایسے بھی ہیں جو کوئی ایک تحریر رقم یا تخلیق کرنے سے قاصر ہیں،پبلک سیکٹر کی جامعا ت کاعالمی سطح کی رینکنگ میں کوئی شمار نہیں ہے، پرائیویٹ سیکٹر میں اگر چند شامل ہیں تو اسکے دروازے خالی جیب رکھنے والے طالب علم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہیں۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ طلباء و طالبات کے مابین نمبروں کی دوڑ اُس وقت شروع ہوئی جب تعلیمی نظام کو کاروبارکا درجہ دیا گیا، حتیٰ کہ پروفیشنل ادارے بھی پرائیویٹ سیکٹر میں کھل چکے ہیں،ان میں داخلے کا راستہ بڑی تجوری سے ہو کر گذرتا ہے، فی زمانہ عام سکول کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ گرانی کے اس عہد میں والدین پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں، اس خوف ناک فضا نے والدین کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، اگرچہ پرائمری، ایلیمنٹری سکینڈری سطح پر سرکار کے تعلیمی اداروں کا تعلیمی ماحول اب بہت بہتر ہے مگر انتظامیہ کی ناکامی یہ ہے کہ وہ عوام کو اپنی جانب متوجہ نہیں کر سکے، باوجود اس کے کہ مذکورہ ادارہ جات میں تعلیمی اخراجات نہ ہونے کے برابرہیں۔

کراچی میں والد کے ہاتھوں فاسد نظام تعلیم کے پہلے ’’شہید ‘‘کے بعد ماہرین تعلیم کوضرور سوچنا چاہئے کہ ہم اپنے بچوں کی خوشیاں لے کر انھیں وہ کتابی کیڑا بنا رہے ہیں جو انکی خواہشات کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ روایت ہے کہ بیرون ملک بچوں کو سکول کی سطح سے سماجی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے ، انکی دلچسپی بڑھانے کے لئے چھوٹے چھوٹے ٹاسک پروجیکٹ کے نام پر دیئے جاتے ہیں، کھیلنے، کودنے اور مختلف مقابلہ جات میں انھیں شریک کرکے انکی شخصیت کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نمبروں کی دوڑ نے سب کچھ ہی چھین لیا ہے، ایک زمانہ تھا جب ادبی تقریبات ہر تعلیمی ادارہ کی شناخت ہوا کرتی تھیں، اب یہ سب کچھ رسمی انداز میں کاغذ کاروائی کے طور پر کیا جاتا ہے۔

پروفیسر اشفاق مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے سماج کو سب سے زیادہ نقصان پڑھے لکھے طبقہ نے پہنچایا ہے ،جس تعلیمی نظام میں کردار سازی کا سرے سے وجود ہی سے نہ ہو، تعلیمی اداروں کے مالکان خود تعلیم یافتہ نوجوانان کا معاشی استحصال کرنے کے مرتکب ہوتے ہوں اس نظام سے اخلاقی اقدار کیسے برآمد ہو سکتی ہیں؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی میں بچے کی المناک موت کو ٹسٹ کیس بنا کر ماہرین تمام پہلووں کا جائزہ لیں اور طلباء و طالبات کو امتحانی نمبروں کی دوڑ سے آزاد کر کے انھیں فطری قوانین کے مطابق زندگی بسر اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دیں جو انکی خفتہ صلاحیتوں کو پروان چڑھائے ۔ فرسودہ نظام تعلیم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اصلاحات کے نام پر ہر دور میں اسے تختہ مشق بنایا جاتا رہا ہے، ایسا کرنا شائد ماہرین کی مجبوری ہو جو تعلیم کے نام پر بیرونی امداد لیتے ہیں مگران ٹکَوں کی خاطر بچوں پر کتابوں اور امتحانوں نمبروں کا اضافی بوجھ ڈالنا کونسی دانشمندی ہے کہ بیچارے جان کی بازی ہی ہار جائیں۔