بازو میں ہونے والے درد کی وجہ دل کا دورہ نہیں بلکہ یہ ۔ ۔۔

درد جسم کے کسی بھی حصے میں انتہائی تکلیف پہنچاتا ہے لیکن بازو میں ہونے والے درد کی وجہ سے انسان روزمرہ کاکام بھی نہیں کرپاتا۔

بازو میں ہونے والے درد کی وجہ دل کا دورہ نہیں بلکہ یہ ۔ ۔۔

نیویارک:  درد جسم کے کسی بھی حصے میں انتہائی تکلیف پہنچاتا ہے لیکن بازو میں ہونے والے درد کی وجہ سے انسان روزمرہ کاکام بھی نہیں کرپاتا۔ ہم اپنا روزانہ کا کام ہاتھوں سے کرتے ہیں لیکن بازو میں درد کی وجہ سے کام کرنا ایک انتہائی تکلیف دہ عمل بن جاتا ہے۔ آئیے آپ کو بازو میں درد کی وجوہات اوراس کے علاج سے آگاہ کرتے ہیں۔


بازو پر چوٹ: ہمارا بازو دوہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے اوراگر یہ فریکچر ہوجائے اس پر چوٹ لگ جائے تو ہلکایاشدیددرد ہوسکتا ہے۔ ماہرین ہڈی و جوڑ کا کہنا ہے کہ بازو میں فریکچر کی وجہ سے سوجن اور سوزش بھی ہوسکتی ہے اوع کبھی یہ حصہ سُن بھی ہوجاتا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ اپنا بازو ہلا بھی نہ سکیں یا ہلانے میں آپ کو شدید دشواری بھی پیش آسکتی ہے۔اگرآپ کو ایسی صورتحال کا سامنا ہوجس میں بازو پر شدید چوٹ لگ جائے یا یہ ٹوٹ جائے تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ یہ مسئلہ گھمبیر نہ ہوجائے۔

کھچاؤاور زیادہ چوٹ:  اکثر ایسے لوگ جو سپورٹس میں دلچسپی لیتے ہیں اس طرح کے مسئلے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چوٹ لگ جانے کے بعد بھی کھیل جاری رکھنے سے بازو کا مسئلہ زیادہ ہوجاتا ہے اور درد شروع ہوجاتی ہے۔ اس درد کااگر دھیان سے علاج نہ کیا جائے تو مسئلہ پیچیدہ ہونے سے درد شدید ہوسکتی ہے۔ درد کے ساتھ بازو میں سوجن بھی ہوسکتی ہے جس سے درد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اعصابی چوٹ: ہمارے جسم کے تمام اعضاء ایک دوسرے سے اعصابی نظام کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں ۔ اس نظام کی وجہ سے ہم اپنے روزمرہ کے کام سرانجام دیتے ہیں، یہ نظام مختلف اعضاء سے پیغام دماغ کی طرف لے جاتا ہے اور وہاں سے ملنے والے احکامات کی بجاآوری لاتا ہے۔ اعصابی نظام میں خرابی یا چوٹ کی وجہ سے بازو میں درد بھی ہوسکتی ہے۔

جوڑوں کا درد: جہاں جسم کے مختلف جوڑوں میں اس بیماری کی وجہ سے دردہوتا ہے وہیں اس کی وجہ سے بازو میں بھی درد ہوسکتا ہے۔ Arthritis160Foundationکا کہنا ہے کہ اس بیماری کی وجہ سے کہنیوں اور دونوں بازوؤں میں بیک وقت درد ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے اعضاء اور پٹھوں میں بھی سوجن آسکتی ہے ، ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا ہر پانچ میں سے ایک شخص بازوؤں کے درد میں مبتلاہوتا ہے۔

انفیکشن: جسم میں انفیکشن کی وجہ سے بھی بازومیں درد ہوسکتا ہے۔ماہرین صحت کا کہناہے کہ Streptococciنامی بیکٹیریا جسم میں داخل ہوتو انفیکشن بڑھ جاتا ہے اور یہ بازو میں درد کا باعث بن جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے بازویا ٹانگ پر سرخ لکیریں نمودار ہوسکتی ہیں اوراگر ایسا ہوتو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

بازو کے درد کا علاج: ماہرین صحت بازو کے درد کے علاج کے لئے R.I.C.Eطریقے کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں یعنی ریسٹ، آئس، دباؤ اور اٹھائیں یا دوسرے لفظوں میں  Rest: آپ کو چاہیے کہ کوئی بھی بھاری کام نہ کریں کیونکہ اس طرح پٹھوں کو موقع ملے گا کہ وہ خودبخود درد یا چوٹ کو ٹھیک کریں۔ لہذا کسی بھی قسم کے بھاری کام سے پرہیز کریں۔

Ice: آپ کو چاہیے کہ برف پاس رکھیں اور اسے کسی شاپنگ بیگ میں ڈال کر برف کو درد والی جگہ لگائیں۔ کچھ دن تک برف لگانے سے درد کم ہونے لگے گا۔

Compression: درد والی جگہ کو کسی گرم پٹی کے ساتھ باندھ دی۔ اس طرح نہ صرف درد والی جگہ کو گرمائش ملے گی بلکہ دباؤ سے درد میں بھی آرام آئے گا۔

Elevation: درد والے بازو کو جتنا ممکن ہوسکے اٹھا کررکھیں کہ اس طرح پٹھوں اور ہڈی کو آرام ملے گا اور درد ٹھیک ہوگی۔

ورزش: ہلکی پھلکی ورزش کریں ،بازوؤں کو گول گھمائیں اور ساتھ ہی بلند رکھیں۔ ایک ورزش میں دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوجائیں اور اب ہاتھوں کو دیوار کے ساتھ لگاکر آہستہ آہستہ اوپر کی جانب لے کر جائیں اور سر کے اوپر لے جائیں۔یہاں کچھ سیکنڈکے لئے بازوؤں کو رکھیں اور پھر نیچے لے آئیں۔

مساج یا مالش: مالش کی وجہ سے بھی آپ کو بازو کے درد سے جلد نجات مل جائے گی۔ اس کی وجہ سے پٹھوں کو سکون ملتا ہے اور درد سے جلد راحت ملتی ہے۔