روزانہ یہ غذائیں کھا کر ڈپریشن سے جان چھڑائی جا سکتی ہے

روزانہ یہ غذائیں کھا کر ڈپریشن سے جان چھڑائی جا سکتی ہے
کیپشن: فوٹو بشکریہ: پاپا نیگسٹو ٹوئیٹر اکاؤنٹ

نیویارک : ڈپریشن ایک پیچیدہ بیماری ہے جس میں مریض گہری سوچ میں چلا جاتا ہے اور مایوسی اور غم محسوس کرتا ہے لیکن اس کو شناخت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ڈپریشن سے ناصرف دماغ متاثر ہوتا ہے بلکہ جسم میں بھی درد ہوتا ہے۔ 

ماہرین کے مطابق، ڈپریشن میں مبتلا شخص اپنے خاندان اور دوستوں سے دور ہونا شروع ہو جاتاہے اور تنہائی کو زیادہ پسند کرتا ہے، ڈپریشن کی وجہ سے  موت بھی واقع ہو  سکتی ہے، اس میں زیادہ تر لوگ خود کشی کرتے ہیں۔سینٹر  فار  ڈیزیزز   کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تقریبا 45000 لوگوں نے ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔ 

ڈپریشن سے بچاؤ  کے لیے نفسیات، ادویات، جسمانی ورزش، یوگا کے ساتھ ساتھ کچھ  غذائیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 

 

دہی:

دہی میں موجود زندہ بیکٹریا نظام انہضام اور انتڑیوں کے لیے انتہائی مفید ہے، دہی  دماغی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، یونیورسٹی آف ورجنیا  کی ریسرچ کے مطابق دہی میں موجود پرو بائوٹیک بیکٹیریا ڈپریشن کی علامات کو  کم کرتے ہیں، ڈپریشن  کی بیماری فیٹ کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ دہی میں فیٹ کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے۔

سلمن مچھلی:

اومیگا 3 فیٹی ایسڈ نروس سسٹم کے کام کرنے میں اہم کردار کرتا ہے، ناصرف اس ایسڈ  کی کمی کا تعلق خراب موڈ ، ذہانت اور فہم سے بھی ہے، فیٹی ایسڈ کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ  سلمن فش ہے جس سے آپ کو 4767 ملی گرام خالص  فیٹی ایسڈ حاصل ہوتا ہے۔جب نروس سسٹم ٹھیک ہوگا تو ڈپریشن کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ 

ڈارک چاکلیٹ:

ڈپریشن کو کم کرنے  میں ڈارک  چاکلیٹ بھی اہم رول ادا کر سکتی ہےکیوں کہ اس میں بہت غذائیت پائی جاتی ہیں۔ ڈارک چاکلیٹ میں میگنیشم کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، تحقیق سے ثابت ہوا ہے  کہ میگنیشیم ڈپریشن، تزابیت کو کم کرتی ہے، اور نظام انہظام کو بہتر کرتی ہے۔ 

سفید چنے:

چنے کی پھلی میں کاربوہائیڈریٹس پایا جاتا ہے، اس کی وجہ سے ہاضمہ کا سسٹم بہتر ہوتا ہے اور جسم کو انرجی ملتی ہے، انرجی ہمارے جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ تاہم چنوں کی4 خاص بات ان میں زنک کی موجودگی ہے جس کا تعلق ہمارے موڈ سے ہوتا ہے، ہمارے جسم کو روزانہ 17 فیصد زنک چاہیے جو کہ ایک کپ چنے کھانے سے حاصل ہوجاتا ہے۔