شہباز شریف دور میں انتہائی کم سود پر 50 ارب سے زائد قرضہ دیے جانے کا انکشاف

شہباز شریف دور میں انتہائی کم سود پر 50 ارب سے زائد قرضہ دیے جانے کا انکشاف
راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو بھی 5 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد کا قرض دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور میں صرف 6 کمپنیوں کو کم مارک ریٹ پر مجموعی طور پر 53 ارب 28 کروڑ 27 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بطور قرضہ دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔


آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے اربوں روپے کے قرضہ جات پر سوالات اٹھا دئیے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کی کمپنیوں کے ذریعے لاہور کی صفائی کرنے والی کمپنی ایل ڈبلیو ایم سی کو انتہائی کم سود پر 29 ارب 93 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کا قرض دیا گیا۔ ایل ڈبلیو ایم سی کو 2016-17 کے دوران بھی 31 کروڑ روپے کا قرض دیا گیا۔ پنجاب لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کو بھی 2016 سے 2017 کے دوران 7 ارب 65 کروڑ روپے دئیے گئے۔

راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو بھی 5 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد کا قرض دیا گیا، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلمپنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی نے بھی 6 ارب 46 کروڑ 68 لاکھ روپے سے زائد قرضہ حاصل کیا، پنجاب منرل کمپنی کو 1 ارب 63 کروڑ 30 کروڑ روپے قرض کی صورت میں دیا گیا۔ آشیانہ اقبال سکینڈل میں ملوث کمپنی پنجاب لینڈ ڈویلمپنٹ کمپنی کو بھی 83 کروڑ 99 لاکھ روپے کے قرض سے نوازا گیا۔ سیالکوٹ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو 50 کروڑ روپے قرض کی صورت میں دئیے گئے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمپنیوں کو دئیے گئے قرض پر آڈٹ کے لئے متعلقہ تمام تر دستاویزات جس میں بیلنس شیٹ، نفع و نقصان کی رپورٹ فراہم نہیں کی گئیں،حکومت اور کمپنیوں کے درمیان قرض کے معاہدے کی محکمہ قانون سے منظور کاپی بھی فراہم نہیں کی گئی،کمرشل کمپنیوں کو کم یا نرم سود پر قرضے دئیے گئے جبکہ خود پنجاب حکومت نے زیادہ سود پر بیرون ملک اور اندورن ملک سے قرضے لئے۔ کمپنیوں کو نوازنے کے لئے قرضوں کے گریس پیریڈ میں متعدد بار اضافہ کیا گیا۔

آڈیٹر جنرل نے صوبائی و ضلعی حکومت کے محکمے ہونے کے باجود کمپنیوں کا قیام و قرض دینا مشکوک قرار دے دیا ہے، محکمہ خزانہ نے آڈیٹر جنرل کو آگاہ کیا کہ  متعلقہ مجاز اتھارٹی کی ہدایت کے مطابق محکمہ کو قرض دینے کا اختیار حاصل ہے۔ اس حوالے سے آڈیٹر جنرل پاکستان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں قرض دینے کے حوالے سے جامع تحقیق ہونی چاہئیے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی۔