اگلے دسمبر تم کہاں ہم کہاں

اگلے دسمبر تم کہاں ہم کہاں

دو ہزار اکیس کا ڈوبتا ہوا سورج، دو ہزار بائیس کے طلوع ہوتے سورج کو اس کی ذمہ داریاں سونپتے ہوئے رخصت ہوا چاہتا ہے۔

وقت ہے جھونکا ہوا کا

اور ہم ہیں فقط پیلے پتے

کون جانے اگلے دسمبر

تم کہاں اور ہم کہاں

مجھے اچھی طرح یاد ہے پچھلے سال جب اسی طرح 31 دسمبر کی آخری شام آئی تھی تو ایک ساتھ بیٹھ کر میں نے اور میرے شوہر نے بہت سارے منصوبے بنائے تھے جن میں لوگوں کی بھلائی کے کام، بچوں کی تعلیم، ملازمت میں پرموشن، نیا گھر، عمرہ کرنے سمیت کئی خواب شامل تھے مگر ان سب منصوبوں میں کہیں بھی یہ شامل نہیں تھا کہ اگر ہم میں سے ایک نہ رہا تو کیسے زندگی گزرے گی؟ کیوں کہ موت کے ایک اٹل حقیقت ہونے کے باوجود انسان ایک ایسا غافل منصوبہ ساز ہے جو کبھی اپنی پلاننگ میں موت کو شامل نہیں کرتا۔

پھر نئے سال کا سورج طلوع ہوتے ہی شاہد نے بہت گہری باتیں کرنا شروع کر دیں مثلاً بنکوں میں رکھی دولت کسی کام کی نہیں انسان کو اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کر لینا چاہیے۔ وہ کہتے تھے ہم اپنی زندگی کا بہترین وقت اچھے وقت کی تلاش میں گنوا دیتے ہیں۔۔ پھر انہوں نے مجھے کہا کہ کیوں نہ ہم یتیم بچیوں کی شادی کے لیے کچھ پیسے اکٹھے کریں اور جنوری میں ہی انہوں نے اپنی آدھی سے زیادہ تنخواہ اس کام میں وقف کر دی۔ پھر ان کے دفتری معاملات کو سلجھانے کے عمل میں تیزی آ گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی ان دیکھی قوت ان کو مجبور کر رہی ہے کہ سب کچھ فوراً کر لو۔ پھر اس سب شیڈول کے ساتھ انہوں نے خدمت خلق کے کال، صلہ رحمی اور بچوں کی خوش رکھنے کے لیے بہت جتن کیے ان کی ہر ممکن خواہشات پوری کیں ان کے خوب لاڈ اٹھائے۔ یہی نہیں جب کرونا کی تیسری لہر آئی تو اپنے احباب کو گھر پر دوائیاں اور کھانے پہنچاتے رہے، انہوں نے سب کو تاکید کی کہ کوئی ہسپتال نہ جائے اور سب گھر میں علاج کرو۔

19 فروری کی ایک شام وہ ایک کرونا کا شکار عزیز کی طرف کھانا اور دوائیاں دے کر پلٹے تو ایک دم تھوڑا سانس پھولنا شروع ہوا۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے فوراً ایکسرے کرایا جس میں پھیپھڑے متاثر نظر آئے۔ بعد میں سیچوریشن لیول کم ہونے پر خود ہی گاڑی چلا کر وہ شخص ہسپتال کی طرف چلا گیا۔ جو دو سال سب کو ہسپتال جانے سے روکتا رہا اور گھر گھر آکسیجن سلنڈر پہنچاتا رہا، جب موت نے اس کو اپنی طرف بلایا تو اس نے بغیر سوچے سمجھے اپنا رخ اس منزل کی طرف موڑ دیا۔

کوویڈ کے 18 بھیانک، خاموش، تنہا دن اور راتیں شاید زندگی کے کئی سال سے بھاری تھے۔

اس دوران فون پر جب بھی بات ہوئی واپسی کی امید تھی لیکن کچھ درد میں ڈوبی باتیں کہ باپ ماں نہیں بن سکتا لیکن ضرورت بننے پر ماں باپ بن سکتی ہے تم ہی ہم سب کا حوصلہ ہو اور پتہ نہیں کیسے مجھ میں اتنا حوصلہ آ گیا کہ میں ان سے ملنے ہسپتال چلی گئی۔ مجھے دیکھ کر ان کے سینے سے باہر نکلتے دل کو تھوڑا قرار آیا مگر میں پسینے سے شرابور ایک ایک سانس سے لڑتے اس بہادر شخص کو دیکھنے کی سکت نہیں رکھتی تھی، پھر بھی ان کو حوصلہ دیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ پہاڑوں سے زیادہ بلند حوصلہ رکھنے والا یہ شخص اتنا بے بس ہو جائے گا مگر ان کے ساتھ دن رات خدمت کرنے والے بچوں اور احباب نے بتایا کہ وہ وینٹی لیٹر پر جاتے ہوئے مسکرا رہے تھے اور مسکراتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کی۔ جانے سے ایک روز پہلے بیٹی کو ہمیشہ دل لگا کر پڑھنے اور بیٹے کو ذمہ داری کا احساس دلا دیا اور ایک ہی دن میں بچے اپنی عمر سے کئی سال بڑے ہو گئے۔ کبھی کسی نے سوچا نہیں تھا کہ خود ڈرائیو کر کے ہسپتال جانے والے شخص کی میت واپس آئے گی۔

بس یقین مانو اس فانی جہاں کا اعتبار تو پہلے ہی نہیں تھا، مزید بے یقینی بڑھ گئی۔

پھر وقت گہرے سبق دے کر کئی اتار چڑھاؤ کے بعد پھر ایک اور سال کے دہانے پر لے آیا ہے مگر اس سال کوئی زیادہ بڑی امیدیں نہیں ہیں بس اتنی کوشش ہے کہ اللہ محتاجی سے بچائے اور یہ زندگی اس کے بتائے اصولوں کے مطابق لوگوں کا بھلا کرتے گزاری جائے۔ جب میں لوگوں کو کئی کئی سال کی پلاننگ کرتے دیکھتی ہوں تو بہت حیران ہوتی ہوں، کیونکہ

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

2021 بھی مہنگائی اور بے بسی کے طوفانوں کی زد میں رہا۔ یہ سال گزشتہ کی طرح کثیرالاموات، شدید بیماریوں اور شدید وباؤں کا سال رہا اللہ کرے۔ 2022 ہم سب کیلئے رحمتوں اور برکتوں کا سال ہو...!!! آمین

لیکن میری ایک درخواست ہے کہ اس سال کے لیے بہت لمبے چوڑے پلان بنانے کے ساتھ ساتھ سورہ الاعلیٰ کی آیت نمبر 17 ، 18 کو سامنے رکھا جائے۔ بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہت بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

آئیے نئے سال کے لیے ایک تہیہ کریں۔ چاہے ہمارے پاس رزق کم ہو یا زیادہ، ہمارے حالات اچھے ہوں یا بُرے، ہم خوش ہوں یا غمگین ہم ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ ہر روز خود کو بہتر بنانے کی سعی کریں گے۔ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ کبھی کسی سے بد گمان نہیں ہوں گے، کسی سے بلا وجہ الجھیں گے۔ کسی سے مقابلہ نہیں کریں گے، کسی کو نیچا نہیں دکھائیں گے اور ایک باکردار قوم اور باعمل مسلم امت بن کر دکھائیں گے۔

ان شاء اللہ