وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا

جب یہ کالم قارئین کی نگاہوں کے سامنے ہو گا، 2021ء کا آخری سورج طلوع ہو کر اپنے سفر پر روانہ ہو چکا ہو گا۔ جب یہ سورج مغرب میں غروب ہو جائے گا تو اس کے ساتھ ہی 2021 ء کا سال بھی تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ کل سے ، 2022 ء کا سفر شروع ہو جائے گا جو ایک اور سال تک جاری رہے گا۔ یہ سلسلہ نہ جانے کتنی صدیوں سے جاری ہے اور نہ جانے کتنی صدیوں تک جاری رہے گا۔ وقت کسی کا انتظار کئے بغیر اپنی طے شدہ رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ کچھ افراد وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ اس کی قدر کرتے ہیں۔ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ سے نکل جانے والا وقت کبھی واپس نہیں آئے گا۔ وہ اپنی زندگی کے ان لمحات کو قیمتی خیال کرتے ہوئے ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ان کا آنے والا کل، گزر جانے والے کل سے بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ قومیں بھی وقت کی اہمیت کو سمجھتی، اس کی قدر کرتی اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ایسی قوموں کا آنے والا کل بھی، ان کے گزرے ہوئے کل سے بہتر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ، وقت کی قدر و قیمت نہ کرنے والا فرد بھی اپنا نقصان کر لیتا اور وقت کی قدر نہ کرنے والی قومیں بھی، دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ زندہ قوموں کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنا وقت لا حاصل اور بے مقصد کاموں میں ضائع نہیں کرتیں، بلکہ مسلسل اپنا جائزہ لیتی ہیں۔ اپنی خامیوں پر قابو پاتی ہیں۔ اپنی اصلاح کرتی ہیں۔ دوسری قوموں سے راہنمائی حاصل کرتی ہیں۔ وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں اور پھر پختہ ارادے کے ساتھ آگے کی منزلوں کی طرف بڑھتی ہیں۔

ہمارا حال زرا مختلف ہے۔ اتنا مختلف کہ اس پر دکھ ہوتا ہے۔ 1947ء  سے دیکھا جائے تو ہم اگلے سال، اگست کے مہینے میں 75 سال کا سفر پورا کر چکے ہوں گے۔ یعنی پون صدی کا سفر۔ یہ کوئی معمولی وقت نہیں۔ بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا۔ چین کا سفر بھی ہمارے ساتھ ساتھ شروع ہوا۔ ان دونوں کو دیکھیں۔ چین ہمارا دوست ملک ہے اور ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ اس کی معیشت کی مثال دی جاتی ہے۔ صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس نے ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ساری عالمی مارکٹیں، اس کی منڈیاں بن چکی ہیں۔ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3300 ارب ڈالر سے زائد ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ جاپان اور سوئیٹر لینڈ کے بعد بھارت ، دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے جس کے ذخائر ساڑھے چھ سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ اور تو اور پچاس سال پہلے، ہم سے لگ ہونے والے بنگلہ دیش کے ذخائر پچاس ارب ڈالر کو چھو رہے ہیں۔ ہماری حالت یہ ہے کہ ڈالر کی ساری جمع پونجیاں اکھٹی کر لیں تو بھی بہ مشکل 20 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ یہ تو صرف زرمبادلہ کے ذخائر کی بات ہو رہی ہے جن کے لئے ہم زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ حال ہی میں ہم نے اپنے نہایت ہی قریبی دوست اسلامی ملک سے تین ارب ڈالر جس بھاو اور جن شرائط پر لئے ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری معاشی حالت کیا ہے۔ ایسے ہی جتن ہم آئی۔ ایم۔ایف سے صرف ایک ارب ڈالر کی قسط کے لئے کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا منی بجٹ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

معیشت سے جڑے سارے پہلو اپنی جگہ نہایت اہم ہیں۔ مثال کے طور پر مہنگائی ، بے روزگاری، غربت، جرائم میں اضافہ، خود کشی کی وارداتیں، گھریلو ناچاقیاں اور نہ جانے کیا کیا۔ اپنی مالی مشکلات کی وجہ سے ہم تعلیم، صحت، اور مفاد عامہ کے دیگر شعبوں کو بھی مطلوبہ وسائل فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن سال کے اختتام پر ہمیں ان مسائل سے ہٹ کر وسیع دائرے پر نظر ڈال کر سوچنا چاہیے کہ پاکستان ایسا کیوں ہے؟ ہم میں ایسی کیا خرابی ہے جو ہمارے پڑوس کے ملکوں میں نہیں اور وہ ہزار مسائل کے باوجود ہم سے بہتر ہیں۔ اور تو اور نصف صدی سے بیرونی جارحیت اور خانہ جنگیوں کے شکار افغانستان کی کرنسی بھی پاکستانی روپے سے دگنی قیمت رکھتی ہے۔ 

سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ عالمی برادری میں ہم باعزت مقام سے محروم ہیں۔ دنیاہماری بات پر یقین نہیں کرتی۔ ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ آج بھی ہم روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی خبر سنتے ہیں کہ ہمارے فوجی جانباز یا پولیس کے افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ لیکن دنیا ہے کہ خود ہمیں کو دہشت گرد اور دہشت گردوں کا سرپرست خیال کرتی ہے۔ فاٹف نے پاکستان ہی کو مستقل گرئے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ ہمارا پاسپورٹ دنیا کے حقیر تریں پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ کرپٹ ممالک کی فہرست میں ہم بہت نمایاں ہیں۔ عدل و انصاف کے حوالے سے دنیا ہمیں بہت پست درجہ دیتی ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارا گراف بہت نیچے ہے۔ خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ہمیں ملامت کا سامنا ہے۔ عمران خان اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ سیاست کو ایک طرف چھو ڑ دیں تو امریکی صدر، جو بائیڈن کا انہیں فون تک نہ کرنا، عمران خان کی نہیں، ہر پاکستانی کی توہین ہے۔ کس کس بات کا ذکر کیا جائے۔ یہ فہرست بہت لمبی ہے۔

دسمبر کے اسی مہینے میں، نصف صدی پہلے، پاکستان دو لخت ہو گیا تھا۔ اگر ان پچاس سالوں کے دوران ہم نے خود احتسابی سے کام لیاہوتا تو آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی۔ ہر سچ کڑوا ہوتا ہے اور یہ سچ تو بہت ہی کڑوا ہے کہ ہم نے پاکستان کے دو ٹکڑے ہو جانے کے بہت بڑے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی ہمارے آس پاس جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے کسی خیر اور بھلائی کی توقع نہیں رکھنی چاہییے۔ آخر ایسا کیا ہے اور کیوں ہے کہ ہم معاشی طور پر کنگال ہو رہے ہیں۔ دنیا کے 190 ممالک آئی۔ایم۔ایف سے وابستہ ہیں لیکن آئی۔ ایم۔ ایف سے قرضے لینے اور اپنی خود مختاری کمپرومائز کرنے والے ممالک کی تعداد اور دو درجن سے بھی کم ہے۔آخر ایساقومی کمیشن کیوں نہیں بنایا جا سکتاجو ( 1973ء کے آئین کی طرح ) مکمل اتفاق رائے سے پاکستان کی اصل بیماری کی تشخیص اور اس کا علاج تجویز کرئے۔ اب تو ایک عام ناخواندہ آدمی بھی چیخ اٹھا ہے کہ ملک کدھر جا رہا ہے۔ زندگی کا کوئی ایک بھی شعبہ نہیں جسے ہم بطور فخر دوسری اقوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ افسوس کہ قوم کی نمائندگی اور ترجمانی کے دعویدار قائدین بھی غفلت کی نیند سو رہے ہیں اور وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کوئی وقت کی قدر کرئے یا ناقدری، اسے تو آگے بڑھنا ہی ہے۔ وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔