ہیلتھ کارڈ:ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھاگئے

ہیلتھ کارڈ:ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھاگئے

2010ء  میں امریکی صدر بارک اوبامہ نے افورڈیبل کیئر ایکٹ دیا جو اُس معاشرے میں بھی ایک ناکام تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان میں یونیورسل ہیلتھ کوریج بذریعہ انشورنس بھی ایسی ماڈل کی ایک نقل ہے جس پر کئی منطقی سوال اُٹھ چکے ہیں۔ میں اِس کالم کے ذریعے کچھ حقائق اہل دانش کے آگے رکھنا چاہتا ہوں کہ سکے کا یہ پہلو بھی مدنظر رہے۔ 

 یہ کیسی عجیب و غریب ہیلتھ کوریج ہے کہ اِس میں فیملی کے سربراہ اور اِس کے مریض کو ایک گورکھ دھندے میں ڈال دیا گیا ہے۔کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ پینل میں شامل ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ والے مریض سے ایک تیسرے درجے کے شہری کا سلوک کیا جاتا ہے۔  یہ ہیلتھ کارڈ آؤٹ ڈور مریضوں کو کور نہیں کرتا، ناگہانی آفت کے بعد والی صورتحال کو کور نہیں کرتا، کسی وبا کے مریض مثلاً کرونا کو کور نہیں کرتا، ایمرجنسی کو کور نہیں کرتا ، آنکھوں کی لیزر علاج کو کور نہیں کرتا، دانتوں کے علاج کو کور نہیں کرتااور کئی سپیشل پروسیجرز کو بھی کور نہیں کرتا۔ اگلے تین سال میں صوبہ پنجاب میں اِس پروگرام پر حکومت چار سو ارب روپیہ خرچ کرے گی۔ اور اِس مقصد کے لیئے سولہ سرکاری ہسپتالوں کے سات ہزار ایک سو چوون بستر اور تین سو ایک پرائیویٹ ہسپتالوں کے بائیس ہزار دو سو چھتیس بستر اِن کارڈوں کے ذریعے کور کر دیئے گئے ہیں یعنی مجموعی طور پر تین سو سترہ ہسپتالوں کے تیس ہزار تین سو نوے بستر موجودہ میسر سرکاری صحت کی سہولتوں میں میسر کر دیئے گئے ہیں اور ہر پنجاب کے بندے کو سالانہ دس لاکھ روپے کی انشورنس کے ذریعے کور کر دیا گیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ انشورنس کمپنی کے ریٹس مقرر کرتے وقت کسی بھی تنظیم سے مشورہ نہیں کیا گیا، کوئی اسٹینڈر مقرر نہیں کیا گیا، ہیلتھ کیئر پروائیڈر کو کوئی لیگل کور حاصل نہیں، علاج کی کوالٹی کمپرومائز ہو چکی ہے اور انشورنس کمپنی کی ہدایات ہیں کہ صرف ہسپتال میں داخلے کے بعد مریض جتنے دن وہاں رہے گا اُس کے فکس پیسے ملیں گے اور ہسپتال سے جانے کے بعد اُسے اُس بیماری اور اُس کے علاج کے ضمن میں ہونے والی پیچیدگیوں کو انشورنس کمپنی کور نہیں کرے گی۔  

 میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ کینسر کے علاج کے انمول ہسپتال میں تو یہ کارڈ چلتا ہے مگر کینسر کے علاج کے ہسپتال شوکت خانم میں یہ کارڈ نہیں چلتا۔ میری سمجھ سے یہ بھی بالا تر تھا کہ اِس کارڈ کو صرف سولہ سرکاری ہسپتالوں میں کیوں لگایا گیا ہے اور مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ ڈاکٹرز ہسپتال لاہور یا نیشنل ہسپتال لاہور یا حمید لطیف ہسپتال لاہور جیسے بڑے پرئیوایٹ ہسپتالوں میں یہ کارڈ کیوں نہیں چلتا۔ پھر میرے ذہن میں ایک اور صورتحال آئی کہ وطن عزیز کی مجموعی پیداوار سے ملک کا قرضہ بڑھ چکا ہے تو کارڈ کے یہ پیسے آئیں گے کہاں سے؟ اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت نے انشورنس کمپنی کو نام نہاد پریمیم دینے سے ہاتھ اُٹھا لیا تو کیا یہ پریمیم مریض اپنی جیب سے دے گا۔  ایک محتاط اندازے کے مطابق  عوام لناس کی صرف پانچ فیصد آبادی اِس کارڈ سے محدود طور پر فائدہ اُٹھا سکے گی۔ بہت بڑی تعداد میں یہ کارد ایکٹیو ہی نہیں اور آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کے پاس شناختی کارڈ نہیں اور کچھ لوگوں کو اپنے فیملی ٹری رجسٹریشن میں مسائل کا سامنا ہے۔یہاں پر کافی ہسپتال صرف اِس وجہ سے کہ انشورنس کمپنی کے ریٹس انتہائی کم ہیں کو مدنظر رکھتے ہوئے گھٹیا آپریشن کا دھاگہ اور فریکچر کی صورت میں ہلکی کوالٹی کی پلیٹس اور دل کے مریض کی صورت میں غیر معیاری اسسٹنٹ استعمال کر کے مریض کو جلد از جلد ڈسچارج کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

اگر آپ کے پاس کوئی انشورنس پالیسی ہے تو اُسے یہ واضح ہو گا کہ کمپری ہنسیو پالیسی کیا ہوتی اور اِس کا پریمیم کیوں بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ہر چیز کو کور کرتی ہے مثلاً بمپر ٹو بمپر گاڑی کا ایکسیڈنٹ۔ جب کوئی شخص کلیم لینے کیلئے کسی انشورنس کمپنی کے پاس جاتا ہے تو اُسے پتہ چلتا ہے کہ اِس پالیسی میں تو کئی خفیہ ٹرم اور کنڈیشنز تھیں کیونکہ لکھا ہوا تھا کہ یہ چیز کورڈ ہے اور یہ نہیں، آپ اپنی انشورڈ رقم کا اتنے فیصد حصے کی سروس لے سکتے ہیںاور فلاں فلاں سہولتوں پر کیپنگ کر دی گئی ہے۔ اب اُس شخص کو سمجھ آتی ہے کہ اصل میں تو یہ ایک گورکھ دھندا ہے جس میں کمپنی کسی قسم کا نقصان برداشت نہیں کر سکتی۔ اب یہی صورتحال اس ہیلتھ کارڈ سروسز کے اوپر لگائیں۔ مریض کے پری ایڈمیشن ٹیسٹ اس سہولت میں شامل نہیں، ہسپتال کا قیام مختصر رکھنا شرط ہے اور علاج کے بعد کی بعد کی کوئی پیچیدگی کور نہیں۔ اب میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس ہیلتھ سروسز پر پیسے سرکاری ہسپتالوں کا بجٹ کاٹ کر میسر کیئے گئے ہیں۔ جو پہلے ہی تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔اس وقت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات، جینیٹوریل سروسز اور سکیورٹی کے بے تحاشا بل التوا میں پڑے ہیں اور اُن کو بجٹ نہیں دیا جا رہا تو کیا اِس صورتحال کو یوں سمجھا جائے کہ کئی غیرمعیاری من پسند پرائیویٹ ہسپتالوں کو رجسٹر کر کے ایک نیا سرکس شروع کر دیا گیا ہے۔ اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹائز کرنے کی طرف قدم بڑھایا جا رہا ہے۔

 اِس کے علاوہ پاکستان سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے گول نمبر تین کے تحت یہ عہد کر چکا ہے کہ اپنے ہر شہری کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دے گا۔ پاکستان نے عالمی ہیلتھ پارٹنرشپ پر بیس سو دس میں دستخط کیے اور پھرعہد کیا کہ نیشنل ہیلتھ ویژن بیس سو سولہ سے بیس سو پچیس کے ذریعے ہم یہ یونیورسل ہیلتھ کوریج حاصل کر لیں گے اور موجودہ ہیلتھ کارڈ اِسی کا شاخسانہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے یونیورسل ہیلتھ کیئر انڈیکس میں پاکستان کا اسکور چالیس ہے جبکہ کینیڈا کا اُنانوے ہے۔ اِسکے  علاہ درجہ بندی دیکھیں تو پاکستان ایک سو تیراسی ملکوں میں ایک سو تریسٹھویں نمبر پر ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو ذریعے علاج کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ لگتا یوں ہے کہ حکومت ایک پلاننگ کے تحت صحت کی سہولتوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے جا رہی ہے جو نا تو خدمات کی رسائی صحیح طریقے سے انجام دے گا اور نہ ہی معاشی تحفظ فراہم کرے گا۔ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے ضمن میں پچھلے دنوں ایک سیمینار میں شرکت کی جس میں بتایا گیا کہ حاملہ عورت کے چار معائینے کے اسٹینڈرز کو دیکھا جائے تو پاکستان ایک سو تراسی ملکوں میں ایک سو چوہترویں نمبر پر ہے۔ ڈی پی ٹی کی تیسری ڈوز کی فراہمی کا اسٹینڈر دیکھا جائے تو پاکستان ایک سو باسٹھویں نمبر پر ہے۔ بچوں کو نمونیہ سے بچاؤ کا اسٹینڈر دیکھیں تو پاکستان ایک سو پچیسویں نمبر پر ہے۔ ٹی بی کے مؤثر علاج کا اسٹینڈر لیں تو پاکستان سوویں نمبر پر ہے اور موزوں سینیٹیشن کا اسٹینڈر لیں تو پاکستان ایک سو اٹھائیسویں نمبر پر ہے۔

آخر میں ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ خدارا پرائیویٹ سیکٹر کو مضبوط ضرور کریں مگر سرکاری ہسپتالوں کا گلہ کاٹ کر یہ کام ہرگز نہ کریںکہ یہ ہسپتال غریب مریضوں کا داتا صاحب ہیں۔احمد ندیم قاسمی یا د آ رہے ہیں!

پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے

ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھا گئے