بھارت نے معافی نہ مانگنے تک ہاکی سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا

بھارت نے معافی نہ مانگنے تک ہاکی سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا

ممبئی :ٌپاکستان اور بھارت میں تعلقات اکثر خراب رہتے ہیں کبھی سرحدوں پر شدید جھڑپیں ، تو کبھی  سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا دعوی  لیکن اس کا اثر کھیلوں اور شوبز کے افراد پر ضرور پڑتا ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیمیں بھی کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار ہے ۔ گزشتہ روز بھارت نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) پر غلط بیانی کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگنے تک بھارت پاکستان ہاکی ٹیم کے ساتھ کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلے گا۔


ہاکی انڈیا کے ترجمان ڈاکٹر آر پی سنگھ نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایک بار پھر 2014 کے ایف آئی ایچ چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل کے بعد پیش آنے والے واقعے کو بہانے کے طور پر استعمال کیا اور جونیئر ورلڈ کپ 2016 میں پاکستان ٹیم کی عدم شرکت کے پیچھے اپنی نااہلی کو بھارت پر الزام تراشی کرکے چھپانے کی کوشش کی۔

اس غلط بیانی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاکی انڈیا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب تک پاکستان 2014 چیمپئنز ٹرافی میں اپنی ٹیم کے غیر پیشہ وارانہ روئیے اور ہاکی انڈیا کے خلاف مسلسل جھوٹ بولنے پر تحریری و غیر مشروط معافی نامہ جمع نہیں کراتا بھارت پاکستان سے کوئی بھی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلے گا۔

پی ایچ ایف کو اپنی نااہلی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور اپنے شائقین کو خوش کرنے کے لیے بھارت پر الزام تراشیاں کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ ایک ادارے کے طور پر کام کرنا سیکھے اور اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار دوسروں کا ٹھہرانا بند کرے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے سیکریٹری شہباز احمد نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد پاکستان اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔واضح رہے کہ ہاکی انڈیا کی جانب سے وضاحتی بیان پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد کے دسمبر میں دئیے جانے والے بیانات کے تقریباً ایک ماہ بعد جاری کیا گیا تھا۔