کینیڈا کی مسجد میں مسلمانوں کا قتل،مشتبہ نوجوان پر قتل کا الزام عائد

کینیڈا کی مسجد میں مسلمانوں کا قتل،مشتبہ نوجوان پر قتل کا الزام عائد

اٹاوا:الیگزینڈر بیسونیت نامی 27 سالہ نوجوان جو کہ ایک یونیورسٹی طالب علم ہیں پر نمازیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور اب اس نوجوان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔پورے کینیڈا میں مقتولین کی یاد میں شمعیں روشن کی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پانچ افراد اس وقت بھی میں زیرِ علاج ہیں جبکہ 12 طبی امداد دیے جانے کے بعد گھر بھجوا دیا گیا ہے۔


سی بی سی نیوز کے مطابق گرفتار طالب علم لاول یونیورسٹی جو کہ حملے کا شکار ہونے والی مسجد سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے میں پڑھتا تھا۔مراکش سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محمد قدیر کو بھی حملے کے بعد اس وقت حراست میں لیا گیا جب ان کی جانب سے 911 کو کال کی گئی تھی تاہم بعد میں انھیں مشتبہ حملہ آور کے بجائے عینی شاہد قرار دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق دونوں افراد کی عمریں اندازاً 20 اور 30 سال کے درمیان ہیں۔کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹوڈوو نے مسجد پر حملے کو کھلی دہشت گردی قرار دیا ہے اور شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ان کا مزید کہنا تھا زبان اور مختلف نسل کو ساتھ مل کر رہنا ہی کینیڈا کی پہچان ہے