شاہ زیب قتل کیس: دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ مقدمہ دہشت گردی کا ہے? چیف جسٹس

شاہ زیب قتل کیس: دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ مقدمہ دہشت گردی کا ہے? چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے شاہ زیب قتل کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم کرکے سپریم کورٹ اور انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلوں کو مدنظر نہیں رکھا، سپریم کورٹ کسی اور عدالت کے فیصلوں غیر آئینی قرار دے سکتی ہے۔


تفصیلات کے مطابق اسلا م آباد میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شاہزیب قتل کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور اور سجاد تالپور کو پیش کیا گیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ غیرقانونی ہو تو سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے سکتی ہے، عدالت کیس کے میرٹ کو نہیں دیکھ رہی، عدالت نے یہ دیکھنا ہے کہ مقدمہ دہشت گردی کا ہے یا نہیں، سندھ ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرکے معاملہ سیشن کورٹ کو بھیج دیا اور سپریم کورٹ اور انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلوں کو مدنظر نہیں رکھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے احکامات کو بائی پاس کرکے حکم جاری کیا۔ شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا جب کہ وکیل بابراعوان کو بھی کل پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔