'حکومت عالمی فورمز  پر مسئلہ کشمیر  اجاگر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے'

'حکومت عالمی فورمز  پر مسئلہ کشمیر  اجاگر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے'

اسلام آباد: سنٹر آف پیس اینڈ سوشل سٹڈیز کے زیر اہتمام مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے ’کشمیری نوجوانوں کا قتل عام‘کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فورمز  پر مسئلہ کشمیر  اجاگر کرنے کے لیے حکومت فوری اقدامات کرے ، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر نسل کشی کی جارہی ہے ، مودی حکومت نے بڑے پیمانے پر مسلمان نوجوانوں کا قتل عام کرکے ریاستی دہشت گردی کا ثبوت دیا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کشمیر کی آزادی کی تحریک سے بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے ،عالمی برادری کو سمجھنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ، بھارت کی گنوں کا مقابلہ کشمیر ی نوجوان پتھروں سے کر رہے ہیں ، مسئلہ کشمیر دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کو حل کرنا ہو گا۔


ان خیالات کا اظہار حریت رہنما اور جموں کشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بھٹ، ممبر قومی اسمبلی نورین فاروق ابراہیم، سوشل رہنما افشاں تحسین باجوہ ، منیرہ جاوید ڈاکٹر عبدالباسط ، وحید شریف، شائستہ صفی ، ڈاکٹر مجاہد گیلانی ، آصف خورشید ، کاشف ظہیر کمبوہ ، عبدالقادر و دیگر نے خطاب کیا ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنما الطاف احمد بھٹ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کشمیر کی تحریک سے بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے،بھارت کشمیری تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کر رہا، حکومت پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر لابنگ کرنی چاہیے،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،کشمیر پاکستان کے بغیر اور پاکستان کشمیر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کے کشمیر کاز کو سمجھنے والے لوگوں کا وفد بیرون ممالک بیجھوایا جائے،مسئلہ کشمیر کو انٹرنیشنل سطح پر اٹھایا جائے ،بھارت کشمیریوں کے سینے پیلٹ گن سے چھلنی کر رہا ہے،کشمیری گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کر رہے ہیں،عالمی برداری کو سمجھنا ہو گا کے مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں،عالمی برداری مسئلہ کشمیر میں حل کے لیے کردار ادا کرے۔

ممبر قومی اسمبلی نورین فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تنظیموں کی جانب کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز نہ اٹھانا افسوس ناک ہے یہ دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایشو ہے جسے اقوام متحدہ کو فوری حل کرنا ہو گا ، بھارت کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز ہر فورم پر اٹھائی جانی چاہیے پاکستان امن کی جانب پہلا قدم اٹھایا اور کرتار پور سرحد کھول کر ثابت کیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے, ماضی کی حکومتوں نے اس مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے سستی کی موجودہ حکومت اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ اس مسئلہ کو ہر عالمی فورم کو بھرپور طریقہ سے اٹھایا جائے گا.

وحید شریف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیریوں کے د ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ، جس طرح کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے ، افشاں تحسین باجوہ اور آصف خورشید نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے کافی بہتر اقدام اٹھائے ہیں بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں کشمیریوں پر ظلم کی بہت سی کہانیاں ہم تک پہنچتی ہی نہیں, نوجوانوں کو کشمیریوں کی آواز کو اٹھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ،نوجوان سوشل میڈیا کو کشمیر کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے استعمال کریں.

شائستہ صفی، کاشف ظہیر اور عبدالقادر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کشمیر میں ایک بھی نوجوان شہید ہوتا ہے تو پورا ایک خاندان متاثر ہوتا ہے ،کشمیر کی ان بہادر خواتین کا چہرہ بھی دکھانا ہے جو صبح گھر سے ایک ہاتھ میں پتھر اور ایک ہاتھ میں کتاب لے کر نکلتی ہیں کشمیریوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کی جارہی ہے.