برصغیر کے معروف گلوکار محمد رفیع کی آج 41 ویں برسی ہے

برصغیر کے معروف گلوکار محمد رفیع کی آج 41 ویں برسی ہے
سورس: file photo

ممبئی : برصغیر پاک وہند کے معروف گلوکار محمد رفیع کی آج 41 ویں برسی ہے ۔ وہ 1980 میں 31 جولائی کو انتقال کرگئے تھے ۔

محمد رفیع آج اس دنیا میں نہیں لیکن دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں کہیں نہ کہیں ان کی آواز کانوں میں ضرور رس گھول رہی ہے۔

محمد رفیع 24 دسمبر 1924 کو بھارتی شہرامرتسر کے گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے تھے ۔کہتے ہیں کہ  کوٹلہ سلطان بازار میں ایک فقیر آیا کرتا تھا جو یہ گیت گایا کرتا تھا ’کھیڈن دے دن چار نی مائیں ، کھیڈن دے دن چار‘ (کھیلنے کے دن چار ہیں ماں، کھیلنے کے دن چار) اور اس فقیر کے گیت سن کر محمد رفیع  کے دل میں بھی گانے کا شوق پیدا ہوگیا تھا ۔تقسیم ہند کے بعد وہ خاندان کے ساتھ لاہور آکر آباد ہوگئے لیکن وقت کے ساتھ محمد رفیع کے دل میں گانے کی لگن بڑھتی گئی ۔ 

اندرون لاہور کی گلیوں میں پلے بڑھے محمد رفیع کی آواز جو بھی سنتا وہ انہی کا ہوکر رہ جاتا تھا اور پھر ایک روز انہوں نے ممبئی جانے کا فیصلہ کرلیا  جہاں ان کو گائیکی کے ساتھ  1945 میں فلم ’لیلیٰ مجنوں‘ اور سنہ 1947 میں ہدایت کار شوکت حسین رضوی کی فلم ’جگنو‘ کے لیے گانے کے ساتھ اداکاری کا بھی موقع ملا ۔ 

محمد رفیع نے کیرئیر میں  100 سے زیادہ موسیقاروں کی دھنیں، 22 سے زیادہ زبانوں میں 25 ہزار گیت گائے ۔ محمد رفیع اپنے 36 سالہ کرئیر میں لگ بھگ 32 سال تواتر سے گاتے رہے۔

 انڈیا کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو محمد رفیع کے بہت بڑے فین تھے۔ محمد رفیع نے مہاتما گاندھی کی یاد میں لکھا یہ گیت ’سنو سنو دنیا والوں، باپو کی یہ امر کہانی‘ گایا تھا۔راجندر کرشن کا لکھا یہ گیت گانے پر انڈین وزیر اعظم نہرو نے محمد رفیع کو سرکاری ایوارڈ سے نوازا تھا۔نہرو لگ بھگ 17سال تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے اور اس عرصہ کے دوران متعدد مرتبہ سرکاری اور نجی محفلوں میں محمد رفیع نے پنڈت نہرو کو اپنا مدھر سنگیت سنایا۔

ایک تقریب میں جب محمد رفیع اپنا یہ گیت گا رہے تھے ’چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے‘ تو پنڈت نہرو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔‘ اس کے علاوہ ’چودھویں کا چاند ہو‘ اور ’سہانی رات ڈھل چکی نجانے تم کب آؤ گے‘ نہرو فرمائش کر کے سنا کرتے تھے۔

پنڈت جواہر لعل نہرو محمد رفیع پر بڑے مہربان تھے۔ ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ ’رفیع صاحب! میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟‘ اس پر محمد رفیع نے کوئی مالی فائدہ اٹھانے کی بجائے انھیں صرف اتنا کہا کہ ’آل انڈیا ریڈیو سے میرا نام ’رفیع‘ اناؤنس کیا جاتا ہے، جبکہ میرا پورا نام محمد رفیع ہے۔ براہ کرم حکم صادر فرمائیں کہ آئندہ میرا پورا نام محمد رفیع لکھا اور پکارا جائےاسوقت سے آج تک آل انڈیا ریڈیو سے محمد رفیع کا مکمل نام لکھا اور پکارا جارہا ہے۔

 میوزک ڈائریکٹر آنندجی (کلیان جی آنند جی) کے لیے محمد رفیع نے 170 گیت گائے اور ان کا پہلا گیت تھا 'چاہے پاس ہو چاہے دور ہو۔‘

محمد رفیع نے 40 سال تک انڈسٹری میں کام کیا۔ وہ سنجیدہ اور نفیس انسان تھے جبکہ ان کے مقابلے میں کشور کمار، مکیش اور آشا بھوسلے کا انداز ہنسی مذاق اور ہلا گلا کرتے رہنا تھا۔ وہ اتنا لمبا عرصہ اس لیے کام کرتے رہے ایک تو وہ پیدائشی فنکار تھے۔ دوسرا وہ محنتی بہت تھے، تیسرا ان کی طبیعت میں لحاظ بہت تھا۔

موسیقار لکشمی کانت پیارے لال اور محمد رفیع کا ساتھ سب سے زیادہ فلموں اور گیتوں کے حوالے سے ایک ریکارڈ ہے۔

محمد رفیع نے لکشمی کانت پیارے لال کے لیے 369 گیت گائے جن میں 186 سولو گیت شامل ہیں۔ بی بی سی کے کرائے گئے سروے میں 'بولی وڈ کے ہنڈرڈ آل ٹائم فیورٹ سونگز' میں اول نمبر پر آنے والا محمد رفیع کا گایا گیت 'بہاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے' اور یہ ایل پی کی کمپوزیشن ہے۔

  1975 میں  کانگریس سرکار نے کشور کمار اور ان کے گیتوں پر آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر چلنے پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ کانگریس سرکار اس وقت کی پرائم منسٹر اندرا گاندھی کی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی تھی جس کے لیے کشورکمار نے زیادہ پیسے مانگ لیے تھے۔جب معاملہ بگڑگیا تو حکومت نے ریڈیو پر کشور کمار کے گانوں پر پابندی لگادی تھی ۔ جس پرکشور کمار بہت پریشان ہوگئے اس موقع پر محمد رفیع نے کشور کمار کی مدد کی اورانہوں نے  کانگریس والوں سے بات کی اور پھر یہ پابندی اٹھالی گئی ۔

محمد رفیع نےدلیپ کمار کے لیے  75 گیت گائے جنھیں بے پناہ مقبولیت ملی۔ اداکار دیو آنند کے لیے فلم 'ہم دونوں' کا وہ گیت ذہن میں لائیے کہ ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں۔‘

اس گیت کو گاتے ہوئے محمد رفیع کی آواز دیو آنند کی آواز بن گئی تھی۔ محمد رفیع نے دیو آنند کے لیے 97 گیت گائے جو اپنی مثال آپ ہیں۔

کپور خاندان کے لیے تو محمد رفیع نے راج کپور سے لے کر شمی کپور، ششی کپور، رندھیر کپور اور رشی کپور کے لیے گایا ہے۔ راج کپور کے لیے انھوں نے 'بازی کسی نے پیار کی جیتی یا ہار دی ' جیسے یادگار گیت گائے۔

اگرچہ راج کپور نے اپنی فلمی جوڑی گلوکار مکیش کے ساتھ بنائی مگر محمد رفیع نے ان کے لیے 32 گیت گائے ۔

محمد رفیع نے شمی کپور کی باڈی لینگویج، ڈانس اور اداکاری کے مخصوص انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے لگ بھگ 180 گیت گائے جو پلے بیک میوزک اور ایکٹنگ کے تال میل کی عمدہ مثال ہیں۔

ششی کپور کے لیے انھوں نے 121 گیت گائے۔ پہلی فلم کے لیے چھ گیت گائے جو سپر ہٹ ہوئے۔

سبھاش گھئی کی فلم ’قرض‘ کے لیے رشی کپور پر محمد رفیع کے گائے گیت ’درد دل درد جگر دل میں جگایا آپ نے‘ کو گاتے ہوئے محمد رفیع نے اپنے اندر سے رشی کپور کو ان کی تمام خصوصیات کے ساتھ آڈیو ریکارڈ پر منتقل کیا۔

محمد رفیع نے جوبلی کمار کہلانے والے ہیرو راجندر کمار کے لیے 124 گیت گائے۔

انہوں نے ڈانسنگ ہیرو جتندر کے لیے " بڑی مستانی ہے میری محبوبہ " سمیت  104 گیت گائے۔ 

  نامور کامیڈین محمود نے اپنے کرئیر میں بیسیوں منفرد کردار ادا کیے جن کے لیے محمد رفیع نے لگ بھگ 85 سے زیادہ گیت گائے۔

محمود کے لیے گائے گیتوں کو ہی اگر سنا جائے تو یوں لگتا ہے محمد رفیع نے موسیقی کے آسمان پر سُروں اور رنگوں کی کہکشائیں سجائی ہیں۔

گرو دت کے لیے محمد رفیع نے 25 گیت گائے جس میں ان کا انداز اور آواز الگ سنائی دیتی ہے۔ دھرمیندر کے لیے انھوں نے 104 گیت گائے۔ اس کے علاوہ راج کمار کے لیے محمد رفیع نے 38 گیت گائے اور ان دونوں کی جوڑی بھی بے مثال رہی۔

مدن موہن کا کمپوز کیا گیت ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘ اور میوزک ڈائریکٹر روی کا یہ گیت ’چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو‘ جیسے گیت تو کلاسکس کا درجہ رکھتے ہیں۔