پاک بھارت تعلقات کی بحالی کی جانب پہلا قدم، تجارتی سرگرمیاں عنقریب بحال ہو جائیں گی

The first step towards restoring Pak-India relations, trade activities will soon resume
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کیساتھ تعلقات کی بحالی کیلئے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت سے چینی، کپاس اور یارن درآمد کرنے کی سمری تیار کر لی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سمریاں اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) میں پیش کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ وزارت تجارت کی جانب سے اس سلسلے میں دو سمریاں تیار کر لی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے تیار کی گئی سمریوں میں انڈیا سے چینی، کپاس اور یارن درآمد کرنے لئے تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کو کپاس کی کمی پوری کرنے کیلئے اسے امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ انڈیا سے اگر یارن اور کپاس درآمد کر لی گئی تو وہ اسے سستی پڑے گی۔

خیال رہے کہ انڈیا کے بزنس مینوں کو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ اس وقت ملک میں کپاس کی ایک کروڑ بیس لاکھ گانٹھوں کی سالانہ کھپت ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان کو کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان اںڈیا، افغانستان اور امریکا سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کپاس امپورٹ کرواتا ہے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ انڈیا کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو کشمیر میں اٹھائے گئے اقدام کے بعد پاکستان نے اس کیساتھ تمام قسم کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

خبریں ہیں کہ بھارت سے چینی، یارن اور کپاس کی درآمد کیلئے نئے وزیر خزانہ حماد اظہر کی صدارت میں ایک اہم اجلاس ہوگا جس میں تجارتی پالیسی کا فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔