شوکت ترین کو مشیر خزانہ یا معاون خصوصی خزانہ بنائے جانے کا امکان

شوکت ترین کو مشیر خزانہ یا معاون خصوصی خزانہ بنائے جانے کا امکان
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: ماہر اقتصادیات شوکت ترین کو مشیرخزانہ یا معاون خصوصی خزانہ بنائے جانے کا امکان ہے جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ 

نجی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے معاشی ٹیم میں توسیع کے سلسلے میں شوکت ترین کو ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اقتصادی و معاشی امور پر عبور رکھنے والے شوکت ترین کی شمولیت تکنیکی اور عدالتی معاملات کیساتھ ساتھ معیشت کی باریکیوں میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

شوکت ترین پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی وزیرخزانہ رہ چکے ہیں اور معیشت کے حوالے سے خاصہ تجربہ رکھتے ہیں، ان کی ماہرانہ رائے اور تجربے کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ حماد اظہر کو نیا وزیر خزانہ بنا تے ہوئے اضافی چارج دیدیا ہے، حماد اظہر کے پاس پہلے ہی وزارت صنعت و پیداوار کا قلم دان ہے۔

 حفیظ شیخ کو مہنگائی کی وجہ سے وزارت خزانہ کے عہدے سے ہٹایا گیا اور اس حوال ےسے شبلی فراز نے بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان مطمئن نہیں تھے اور حماد اظہر وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کو آگے لے کر چلیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر وزارتوں میں بھی رد و بدل کا امکان ہے، شبلی فراز کو وزارت پٹرولیم کا قلمدان اور فواد چوہدری کو بھی اضافی ذمہ داری دئیے جانے کا امکان ہے جبکہ اطلاعات اور نشریات کی وزارت کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے پر مشاورت ہو رہی ہے، امکان ہے کہ دونوں کے الگ الگ وزیر مملکت لائے جائیں گے۔