ڈار میں کالا یا پھر تختہ ”ڈار“

ڈار میں کالا یا پھر تختہ ”ڈار“

دوستو، ماہ صیام وہ ایام ہوتے ہیں جب کہ ایک فاقہ کش غریب بھی فخرسے کہتا ہے کہ وہ روزے سے ہے، کیوں کہ عام دنوں میں اس کی فاقہ کشی کا اتنا ثواب نہیں ملتا جتنا اس ماہ مقدس میں روزہ رکھنے سے مل جاتا ہے۔۔ حیرت انگیز طور پر ہر سال اس ماہ مبارک سے پہلے مہنگائی کا سونامی آجاتا ہے، بھٹے پر کام کرنے والا ایک مسیحی مزدور اپنی اہلیہ سے کہہ رہا تھا ، فکر نہ کرمسلمانوں کا یہ مہینہ جیسے ہی ختم ہوجائے گا، مہنگائی بھی کم ہوجائے گی پھر تجھے نیا سوٹ بنوادوں گا۔۔اس بار رمضان المبارک سے قبل وفاقی بجٹ کا اعلان ہوگیا۔۔اب صوبائی بجٹ آنا شروع ہونگے، لیکن غریب کو اعدادوشمار کے اس گورکھ دھندے سے کیا۔؟

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں دیکھتے ہی منہ بن جاتا ہے، کچھ کی شکلیں دیکھ کر نجانے کیوں لگتا ہے کہ یہ انسان برسوں سے کسی پریشانی کا شکار ہے۔۔۔بعض چہرے دیکھ کر تازگی کا احساس ہوتا ہے۔آپ بھی اپنے آس پاس چہروں کا ”مطالعہ“ شروع کردیں تو یقینی طور پر آپ کے”مشاہدے“ میں بھی بیش قدر اضافہ ہوگا۔۔ہمارے کہنے پر ایک بار اسحاق ڈار کے چہرے کا مشاہدہ بھی ضرور کیجئے گا۔

ویسے شکلیں تو اللہ پاک کی دین ہیں، کبھی انہیں برا نہیں کہنا چاہیئے لیکن پھر بھی بدقسمتی سے چہروں کا ہماری زندگی میں کافی عمل دخل ہوتا ہے۔۔ بعض لوگ ہمیں اچھے نہیں لگتے، جو لگتے ہیں وہ کبھی قریب نہیں لگتے۔ اور کچھ کو تو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ہمارے کچھ لگتے ہیں۔۔ڈار صاحب موجودہ کابینہ کے واحد وزیرہیں جنہوں نے پوری قوم کو ©” تختہ ڈار“ پر لٹکا کے رکھا ہے۔ہمیں ڈار صاحب پنجاب کے ” شیخ“ لگتے ہیں، یہی شیخ قوم جب کراچی میں ہوتی ہے تو انہیں اپنی عادات و اطوار کے حساب سے ” میمن “ کہاجاتا ہے۔شیخ اور میمنوں میں ایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے وہ ہے ان کی کنجوسی۔۔ان کی جیب سے پیسے نکلوانا کشمیر آزاد کرانے کے برابر ہوتا ہے۔۔ان کا بس چلے تو سب کا پیسہ ایک واری ہی لے لیں، ایسوں کا دل نہیں چاہتا کہ کسی کو کچھ دیں۔۔ایک بار ایک میمن کو اس کی بیوی نے ایس ایم ایس کیا۔۔ جانو میں جس جہاز پر ہوں وہ لینڈ کرتے ہوئے گرنے والا ہے۔۔شوہر نے فوری جواب دیا۔۔ تم ایک کام کرو زلیخا ، جلدی سے اپنا بیلنس میرے نمبر پر بھیج دو۔۔ ہمارا ایک دوست ”شیخ“ ہے۔۔ایک دن ایک آنکھ پر ہاتھ رکھے جارہا تھا۔۔تشویش ہوئی ،پوچھا۔۔ خیرتو ہے،آنکھ میں درد ہے یا کوئی اور تکلیف۔۔ وہ کہنے لگا۔۔جب ایک آنکھ سے نظر آجاتا ہے تو پھر دوسری آنکھ استعمال کرنے کا کیا فائدہ؟؟

بات ہورہی تھی اسحاق ڈار صاحب کی۔۔بچپن سے بہت تیزدماغ پایا۔۔دروازے پر دستک ہوئی۔والد نے کہا ، دیکھو دروازے پر کون ہے؟ اسحاق ڈار نے دروازے پر جاکر ملاقاتی سے پوچھا، آپ کون ہیں، اس نے اپنا نام ریاض بتایا۔ ڈارصاحب نے نے واپس آکر کہا:”ابا جان! باہر سعودی عرب کے دارالخلافہ کھڑے ہیں۔ایک بار ان کی بلی نے اون کا گولہ کھالیا۔۔تو اپنی امی کو کہنے لگے۔۔امی امی۔۔اب ہماری بلی کے بچے سوئیٹر پہن کے پیدا ہوں گے۔اپنے والد کے ساتھ بازار میں جارہے تھے کہ ٹھیلے والے آوازلگائی۔۔لنگڑا آم چالیس روپے کلو لے لو۔۔انہوں نے ٹھیلے والے سے معصومیت سے پوچھا ۔۔ اور دو ٹانگوں والے آم کتنے کے ہیں؟۔۔کلاس میں ٹیچر نے جب ڈار صاحب سے سیب کافائدہ پوچھاتو وہ کہنے لگے۔۔پھل والا اسے بیچ کر پیسہ کماتا ہے۔۔ ایک دن ڈار صاحب نے اپنی اہلیہ سے شدید شکوہ کیا۔۔ آخر کب تک تم میرے بلیڈ سے بچوں کی پنسلیں تراشتی رہوگی۔۔بیگم نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔ جب تک تم میری لپ اسٹک سے سرکاری فائلیں چیک کرتے رہوگے۔۔ڈار صاحب ایک دن اپنے نوکر پر برس پڑے ۔۔ ڈار صاحب کی ذہانت کا پہلے ہی بتاچکے ہیں۔۔کسی نے ان سے پوچھا۔۔قوال جب گاتے ہیں تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر کیوں رکھ لیتے ہیں۔۔جس پر ڈار صاحب نے انہیں سمجھایا کہ۔۔تاکہ وہ اپنی آوازخود نہ سن سکیں۔۔بچپن کے ایک دوست نے پوچھا۔۔یار ڈار۔۔جب نہر میں نہائیں تو منہ کس طرف کریں۔۔انہوں نے ترنت جواب دیا۔۔اپنے کپڑوں کی طرف۔۔ہمارے ایک دوست حقے کے بہت شوقین تھے۔۔ایک دن دیکھاتقریبا بیس فٹ لمبے پائپ سے حقہ گڑگڑارہے ہیں۔۔پوچھا۔۔یار حقے کا اتنا لمبا پائپ۔۔کہنے لگے۔۔ڈاکٹر نے مجھے تمباکوسے دوررہنے کا کہا ہے۔۔جس طرح ہمارے دوست کو ڈاکٹر نے تمباکوسے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے،اسی طرح ہم اپنے دوستوں کو ہر حکومت سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، کیوں کہ پولیس والوں کی طرح ان کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی اچھی نہیں ہوتی۔۔

حکومت کا پانچواں بجٹ بھی اسحاق ڈار صاحب نے پیش کیا۔۔ایثار کا مہینہ شروع ہونے سے قبل بجٹ کے آنے سے پوری قوم نے اسے صبر کا مہینہ سمجھ لیا۔۔ڈارصاحب نے سگریٹ پر بیس فیصد ٹیکس ٹھوکا تو ہمارے دوستوں نے سگریٹ تو نہیں چھوڑی، نوشی چھوڑ دی۔۔ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ ڈار صاحب کا وفاقی کابینہ میں تندور کی ماسی والا کردار ہے جو پیڑے دکھا کر پیڑے چوری کرلیتی ہے۔۔پہلے اقتصادی سروے، پھر بجٹ تقریر، پھر پوسٹ بجٹ تقریر،صاحب یہ الفاظ کا ہیرپھیر اور ہندسوں کا گورکھ دھندا بندکریں، آسان طریقے سے سمجھائیں کہ کیا حکومت نے نئے بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا؟

برسوں سے یہی سنتے آرہے ہیں کہ نیا بجٹ عوام دوست ہوگا لیکن وہ نکلتا عوام کش ہے، نئے ٹیکسز سے غریب کی کمر دوہری ہوجاتی ہے۔ جس سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اشیائے خوردونوش ہوں یا استعمال کی دیگر چیزیں سب پر ،ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگائے جاتے ہیں۔ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے ، امیر کا محل پہلے سے زیادہ جگمگا اٹھتا ہے۔ کیوں ؟ کیونکہ انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ غریب ہر ماہ بجلی کا بل دیتا ہے لیکن بجلی پوری نہیں ملتی۔ امیر اپنے کارخانے بھی کنڈا لگاکر چلاتےہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔ صاحب یہ پاکستان ہے اور یہاں قانون و پکڑ دھکڑ صرف ان کیلئے کیلئے ہیں جن کی کہیں بھی پہنچ نہیں۔۔

جب ڈار صاحب کو آخرت کا خوف دلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ معصومیت سے کہتے ہیں۔۔ جو شخص جنتی ہے وہ جنت میں ہی جائے گا، تسی بیشک کسی ہور مولوی نوں پچھ لو۔۔ہمارے دوست نے بہت پتے کی بات کی ۔۔فرماتے ہیں۔۔رمضان میں جو بھی بنتا ہے سب مزے سے کھالیتے ہیں۔۔پاکستان بھی رمضان میں ہی بنا تھا۔

علی عمران جونیئر نیو نیوز میں سینئر نیوزپروڈیوسر ہیں

انکا فیس بک آئی ڈی علی عمران جونیئر