قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ہنگامی بنیادوں پر صدر کی تنخواہ میں اضافے کا بل منظور کر لیا

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ہنگامی بنیادوں پر صدر کی تنخواہ میں اضافے کا بل منظور کر لیا
صدر کی تنخواہ 80ہزار روپے سے بڑھ کر 8لاکھ 46ہزار پانچ سو پچاس ہو جائے گی،فائل فوٹؤ

اسلام آباد :ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ  نے اراکین سینیٹ کی آگاہی کے بغیر ہنگامی بنیادوں پر صدر کی تنخواہ میں اضافے کے مالیاتی بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا، بل کو آج قومی اسمبلی میں منظور کر لیا جائے گا جس کے تحت صدر کی تنخواہ 80ہزار روپے سے بڑھ کر 8لاکھ 46ہزار پانچ سو پچاس ہو جائے گی بل ہنگامی طور پر چیئرمین سینیٹ کی طرف سے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،


چیئرمین قائمہ کمیٹی نے پارلیمانی ضابطہ کار پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کر دی ہے  وزارت قانون و انصاف کے حکام نے بھی کہا ہے کہ ایوان بالا کی آگاہی کے بغیر براہ راست بل کسی قائمہ کمیٹی کے سپرد نہیں کیا جا سکتا بل 28مئی  2018کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا 29مئی کو ہنگامی طور پر سینیٹ کو بھجوا دیا گیا اور بغیر کسی تاخیر کے سفارشات طلب کر لی گئیں ا ہنگامی  اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت بدھ کی شام  پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔

قائمہ کمیٹی کے اجلا س میں صدر مملکت کی تنخواہ، الانسز اور دیگر مراعات میں اضافے کے ترمیمی بل 2018کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔ قائمہ کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لیکر کثر تِ رائے کی بنیاد پر بل کی منظوری دے دی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک نے کہا کہ رولز کے مطابق منی بل قومی اسمبلی سے سینٹ اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے جسے متعلقہ وزیر اجلاس میں پیش کرتا ہے ۔

اراکین سینٹ بل پر بحث پیش کرتے ہیں اور سفارشات کے لیے قائمہ کمیٹی کو ریفر کیا جاتا ہے کہ 14دن کے اندر اگر اراکین کی طرف سے سفارشات ہیں تو شامل کیا جائے ۔ یہ بل قومی اسمبلی میں28مئی 2018کو پیش ہوا اور سینٹ کو 29مئی کو بھیج گیا ۔