پاکستانی کپتان بابر اعظم کو جارحانہ انداز میں ٹیم کی قیادت کرنی چاہئے، رمیز راجہ

پاکستانی کپتان بابر اعظم کو جارحانہ انداز میں ٹیم کی قیادت کرنی چاہئے، رمیز راجہ

اسلام آباد:قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی کپتان بابر اعظم کو جارحانہ انداز میں ٹیم کی قیادت کرنی چاہئے ، بابر اعظم کو کھیل میں سخت فیصلے کرنا ہوں گے.


اپنے یوٹیوب چینل پر انہوں نے بھارتی ویرات کوہلی اور نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن کی کپتانی کے ماڈل کی مثال دیتے ہوئے رمیزراجہ نے کہا کہ کوہلی ایک جارحانہ ، جذباتی اور پرجوش کپتان ہے جس کے پاس باڈی لینگویج ہے ، جبکہ ولیمسن فیلڈمیں ٹھنڈا مزاج رہتا ہے اور وہ اس عمل کی پیروی کرتا ہے اور ایک اچھا رزلٹ حاصل کر لیتا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں 50 اوورز اور ٹیسٹ میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ہمارے پاس اعتماد کی سطح کم ہے۔رمیز نے کہا کہ بابر اعظم کو مضبوط فیصلے کرتے ہوئے کپتانی کی قیمت ادا کرنے کے لئے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا بعض اوقات آپ کو ٹیم اور اچھے امتزاج کی خاطر اپنے بہترین دوستوں کی قربانی دے کر مضبوط فیصلے کرنے پڑیں گے۔رمیز راجہ نے کہا بابر نے 1992 ورلڈ کپ کے فاتح کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کی خواہش کا اظہار کیا ہے، بابر کو معلوم ہونا چاہئے کہ عمران خان میرٹ پر فیصلے کرتے تھے.

انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ون ڈے اور محدود اوورز کے کپتان کو حکمت عملی اور سلیکشن میں آزادی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ بابر کو صرف بنیادی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے وہ سیکھ لے گا، اسے ہارنے سے ڈرنا نہیں چاہئے۔

اگر آپ 1992 کے ورلڈ کپ جیتنے والی پلیئنگ الیون دیکھیں تو اس میں صرف بیٹنگ کے لیجنڈ جاوید میانداد اور عمران خان تھے جن کی عمریں 30 سال سے زیادہ تھی۔

باقی وہ نوجوان کھلاڑی تھے جنہوں نے ٹیم کے ساتھ اچھا سنگ میل عبور کیا. انہوں نے مزید کہا کہ بابر کو مخدود اوور میں نوجوانوں کو آزمانے کی ضرورت ہے۔